دین سے بے آشنا ہیں کیسے اولو الامر ہیں
شکل سے ہجڑے نما ہیں کیسے اولو الامر ہیں
سود لینے کو ترقّی جان کر ہیں مطمئن
پیکرِ مکر و دغا ہیں کیسے اولو الامر ہیں
حالِ امت پر پریشاں ایک لمحہ بھی نہیں
غافلِ بدرالدجٰی ہیں کیسے اولو الامر ہیں
جھوٹ کو سچ کی طرح کہنا ہے ان کا مشغلہ
اپنے حق میں بد دعا ہیں کیسے اولو الامر ہیں
اہلِ باطل کی غلامی میں ہمیشہ مستعد
اہل ایماں پر خفا ہیں کیسے اولو الامر ہیں
جس جگہ ممنوع ہو جانا اہلِ ایماں کیلئے
یہ نمایاں اس جگہ ہیں کیسے اولو الامر ہیں
ہدہد الہ آبادی