۔
*عقل ماری گئی دین داری گئی*
*اِس موبائل سے پرہیز گاری گئی*
*خواہشِ نفس میں رات بھر جاگ کر*
*موت کی یاد کی ہوشیاری گئی*
*مرنے والوں پہ مرنے کی لَت میں لگے*
*غلبہءِ دین کی بیقراری گئی*
*نفس کے خواہشوں کی غلامی مِلی*
*غیر محرم پہ جب جان واری گئی*
*دین بیزار ہوتے گئے اِس قدر*
*ذکر و دعوت، دعا، آہ و زاری گئی*
*ہم کو اِدراک ہدہد نہیں ایک پل*
*نیک لوگوں سے یاری ہماری گئی*
*ہدہد الہ آبادی*