سقراط کے مشہور اقوال: • “غصے کا علاج، خاموشی ہے۔” • “یہ ضروری نہیں کہ میری بات کو قبول کیا جائے، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ سچی ہو۔” • “انسان اپنی سوچ سے اپنے دنیا کو پھولوں کی سیج یا کانٹوں کا بستر بنا سکتا ہے!” • “ہمیں دو کان، دو آنکھیں، اور ایک زبان دی گئی ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ ہمیں سننا اور دیکھنا زیادہ چاہیے، اور بولنا کم۔” • “دنیا میں واحد نیکی علم ہے، اور واحد برائی جہالت ہے!” • “قناعت قدرتی دولت ہے، اور عیش مصنوعی غربت ہے۔” • “ہمیشہ یاد رکھیں، کوئی انسانی حالت مستقل نہیں ہے؛ اس طرح خوش قسمتی کے وقت میں حد سے زیادہ خوش نہ ہوں اور بدقسمتی کے وقت میں حد سے زیادہ مایوس نہ ہوں۔” • “طاقتور ذہن خیالات پر بحث کرتے ہیں، اوسط ذہن واقعات پر بات کرتے ہیں، اور کمزور ذہن لوگوں پر گفتگو کرتے ہیں۔” • “بات کرو تاکہ میں تمہیں دیکھ سکوں؛ تمہاری آواز تمہارے وجود کا اظہار ہے اور یہ محض بولنے کی صلاحیت سے زیادہ ہے۔ تمہاری باتیں تم ہو۔” مترجم : عادل نعمانی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

‏ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑھی والے سے پوچھا : " انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟" بوڑھے نے ادب سے جواب دیا: "بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔" عورت بولی: "میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔" بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا: "بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔" عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔ ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟ اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی ؟ میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب ٹھیلے والوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا: "یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔" انگریزی ادب سے ماخوذ 🛑❤️