ایک بار مظاہر العلوم کے علماء نے حضرت حکیم الامت رحمت اللہ ع...
Ummah Post
2 December, 2023

ایک بار مظاہر العلوم کے علماء نے حضرت حکیم الامت رحمت اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ کے علم میں اتنی برکت کیوں ہے؟ کیا آپ کتب بینی زیادہ کرتے ہیں؟ فرمایا کہ ہم نے کتابیں وہی پڑھی ہیں جو آپ نے پڑھی ہیں مگر ہم نے کتب بینی سے زیادہ قطب بینی کی ہے ـ علمِ دین حاصل کرنا تو ضروری ہے ورنہ آدمی جاہل رہتا ہے لیکن علمِ دین کے سونے پر اہل اللہ کی صحبت کا سہاگہ لگنے اس پر نکھار آتا ہے ـ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک اپنی مناسبت کا کوئی مربی اور شیخ تلاش کرے،ان سے باضابطہ اصلاحی تعلق کرے اور ان سے کوئی ذکر پوچھ لے ـ حکیم الامت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ کے پاس رہنا ایسا ہے جیسا آگ کے سامنے بیٹھنا لیکن جب وہاں سے دور بیوی بچوں کے پاس جاؤ گے،ٹھنڈے ہوجاؤ گے ، اس لئے فرمایا کہ شیخ سے ذکر کا کشتہ لے لو شیخ سے دور جاکر بھی گرم رہو گے جیسے اجمل خان ململ کا باریک کرتہ پہن کر جاڑے میں تانگے پر بیٹھ کر ایک گھنٹہ فجر سے پہلے دلی کی سیر کرتے تھے کیونکہ وہ کشتہ کھاتے تھے تو فرمایا کہ اللہ کے نام کا کشتہ سیکھ لو تو شیخ سے دور ہوکر بھی اپنے ملکوں میں، اپنے گاؤں میں گرم رہو گے یعنی ایمان و عمل کے ساتھ رہو گے ـ

Share this article
مطالعہ کا انوکھا فائدہ
مضامین

مطالعہ کا انوکھا فائدہ

ﺷﯿﺦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺍﻟﻌﻮﺩﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ " ﺯﻧﺰﺍﻧﮧ " ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﯿﺦ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﻮ ﯾﮧ ﭼﺒﺎﺅ ! ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ...