خودی کا فلسفہ سن کر دعائیں کانپ اٹھتی ہیں
چراغِ دِل کی حِدت سے ہوائیں کانپ اٹھتی ہیں
سلاخیں اپنے زنداں کی ذرا مضبوط رکھنا تم
کہ شاہیں پھڑپھڑائے تو فضائیں کانپ اٹھتی ہیں
ہمیں مصلوب کرکے بھی بہت مایوس ہوگے تم
ہماری مسکراہٹ پر سزائیں کانپ اٹھتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی