زندگی میں ہم کئی محاذوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں—گھر، کام، اور تعلقات سبھی اپنی اپنی ذمہ داریاں اور توقعات رکھتے ہیں۔ ہمارے گھر والے ہماری روزمرہ کی جدوجہد اور ملازمت کے دباؤ کو نہیں سمجھتے، اور ہماری نوکری ہماری ذاتی زندگی اور گھر کی ضروریات سے بے خبر رہتی ہے۔ دوست، ساتھی، اور عزیز بھی ہماری نئی اور پرانی ذمہ داریوں کا بوجھ ہمیشہ پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔ زندگی کے اس سفر میں، آپ کا شریکِ حیات آپ سے غیر مشروط محبت اور حمایت کی امید رکھتا ہے، چاہے آپ کتنے ہی دباؤ میں کیوں نہ ہوں، اور چاہے آپ اسے کتنا بھی سمجھانے کی کوشش کریں۔ آپ کا ہر قدم اور ہر قربانی اکثر نظر انداز ہوجاتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جسے اکثر کوئی نہیں دیکھتا یا سمجھتا۔ آپ کے دل کی کیفیت اور آپ کی خاموشی میں چھپی قربانیاں اکثریت کے لیے چھپی رہتی ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ ہر روز ثابت قدمی سے آگے بڑھتے ہیں۔ ❤️‍🩹

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے (میری جانب بند مٹھی بڑھا کر ) کہا: یہاں آؤ! میں تمہیں دوں گی ( جیسے مائیں بچے کو پاس بلانے کے لئے ایسا کرتی ہیں ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اسے کیا دینے کا ارادہ تھا؟“‘ والدہ نے جواب دیا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ. (الترغيب والترهيب (۳۷۰/۳) اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت سی ایسی باتیں جنہیں معاشرہ میں جھوٹ نہیں سمجھا جاتا ہے، ان پر بھی جھوٹ کا گناہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور جھوٹے وعدے کرنا عام طور پر ہر جگہ رائج ہے، اور اسے جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ حالاں کہ درج بالا ارشاد نبوی کے مطابق یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے، جس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۳۶)