کیاڈیجیٹل دور میں مطالعہ ممکن ہے ؟ جی ہاں ممکن ہی نہیں بلکہ آسان بھی ہے ، بس انسان شوشل میڈیا کے استعمال کی حدیں مقرر کرلے، کن پلیٹ فارم سے فائدہ ممکن ہو گا، کن ایپلیکیشنس کو استعمال کرنا چاہئے اس سے آگاہی حاصل کرلے، اگر ٹیکنالوجی کا صحت مند استعمال پورے ہوش و حواس کے ساتھ اس کے فوائد و نقصانات کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو کتب بینی کی بہت ساری راہیں ہموار ہوں گی ، غریب اور متوسط طبقہ کتابوں کے اخراجات تلے دبنے سے بچ جائے گا، ٹیکنالوجی کی وجہ سے تعلیمی سطح میں اضافہ ہوا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۰ ء کے بمقابلے میں ۲۰۲۲ء میں مصنفین اور ادیبوں کی تعدا میں مزید ۳۲ فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ بجا ہے کہ لوگ آف لائن کتب بینی کو آن لائن پر ترجیح دیتے ہیں لیکن آن لائن کی تعدا میں مزید ۳۲ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن آن لائن کتب بینی کی وجہ سے مطالعہ کرنے والوں کے فیصد میں اضافہ بھی ہو تا جا رہا ہے۔ (کتاب : ماہنامہ الرشید لکھنؤ نومبر ۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ سب دین کے شعبے ہیں

یہ سب دین کے شعبے ہیں

لیسٹر برطانیہ میں علماء کرام کی محفل میں ایک دفعہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی صاحب رح نے فرمایا کہ فرض کرو انڈیا کے کسی گاؤں میں کسی بھاری جسم والے شخص کا انتقال ہوگیا جون جولائی کی گرمی ہو قبرستان کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہو اور جنازہ اٹھانے والے صرف چار آدمی ہوں راستے میں ایک مسافر شخص ملا اس نے اپنا سامان ایک جانب رکھا اور جنازے کو کندھوں پر اٹھانے والوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رح نے علماء سے پوچھا ان چار آدمیوں کو اس مسافر شخص کے آنے سے خوشی ہوگی یا تکلیف؟ سب علماء کرام نے کہا خوشی ہوگی۔حضرت مولانا نے مزید فرمایا کہ یہ پانچوں آدمی تھوڑا آگے بڑھے تو ایک اور مسافر نظر آیا اس نے بھی اپنا سامان ایک سائیڈ پر رکھا اور ان پانچوں آدمیوں کے ساتھ جنازے کو کندھا دینے کے لئے شریک ہوگیا حضرت رح نے پھر علماء کرام سے پوچھا بتاؤ کہ اس چھٹے آدمی کے آنے سے پہلے پانچ آدمی خوشی محسوس کریں گے یا تکلیف؟ سب نے کہا خوشی۔تو پھر حضرت رح نے فرمایا کہ اس وقت ہم سب بھی دین کی ذمہ داری کندھوں پر اٹھا کر چل رہے ہیں دین کی خدمت کر رہے ہیں جب یہ بات ہے تو ہمیں ایک دوسرے کے کام کو دیکھ کر خوش ہونا چاہئے اس لئے کہ ہم سب کا مقصد ایک ہے۔تدریس تصنیف تبلیغ جھاد سیاست تصوف درس قرآن ودرس حدیث یہ سب دین کے شعبے ہیں اگر ہم سب ایک دوسرے کے رفیق ہوتے تو دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا مگر شیطان ہمیں رفیق بننے نہیں دیتا ہمیشہ ہمیں ایک دوسرے سے متنفر کرتا رہتا ہے سیرت کا ایک پہلو اتفاق بھی ہے جو نظر انداز ہورہا ہے۔