*`اسے کہتے ہے دندان شکن جواب`* 
ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی لڑکی...
Ummah Post
16 November, 2024

*`اسے کہتے ہے دندان شکن جواب`*

ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا، آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کرلیں،

سنا ہےاس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔ لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟

اُس شخص نے کہا کہ ہم بات کرسکتے ہیں کہ ، اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نیہں مانتا؟ لڑکی نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔

اس شخص نے پوچھا کیا؟ لڑکی نے کہا کہ گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن۔۔۔ گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟

وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پر لڑکی بولی کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بناۓ قوانین ،پردہ ،وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں۔۔۔۔ جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں ؟ یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی..

Share this article
حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، "ناشطہ" اور ایک بنگالی طالب علم
مضامین

حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، "ناشطہ" اور ایک بنگالی طالب علم

ڈاکٹر تابش مہدی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں، ہمارے بزرگ دوست مفتی عبدالرٔوف  منصف مبارک پوری مرحوم نے اپنے دور طالب علمی کا ایک واقعہ ایک سے زائد بار سنایا تھا۔ بتایا کہ دارالعلوم دیوبند میں چوں کہ ناشتے کا نظم کبھی نہیں رہا ہے، جو طلبہ ناشتہ کرنا چاہتے ہیں، وہ  اپنے اپنے طور پر ناشتے کا نظم کرتے ہی...