*میں نہیں جانتا کہ یہ کس مصنف کا کارنامہ ہے۔ لیکن بہترین ہے۔* الفاظ *لکھے* جاتے ہیں ، الفاظ *پڑھے* جاتے ہیں ، الفاظ *بولے* جاتے ہیں ، الفاظ *گڑھے* جاتے ہیں الفاظ *تولے* جاتے ہیں ، الفاظ *ٹٹولے* جاتے ہیں ، الفاظ *کھنگالے* جاتے ہیں ، ... اس طرح الفاظ *بنتے* ہیں ، الفاظ *سنورتے* ہیں ، الفاظ *بہتر* ہوتے ہیں ، الفاظ *نکھرتے* ہیں ، الفاظ *ہنساتے* ہیں ، الفاظ *مناتے* ہیں ، الفاظ *رلاتے* ہیں ، الفاظ *مسکراتے* ہیں ، الفاظ *گدگداتے* ہیں ، الفاظ *میٹھے* ہوتے ہیں ... اتنا ہونے کے بعد بھی الفاظ *چبھتے* ہیں ، الفاظ *بکتے* ہیں ، الفاظ *روٹھتے* ہیں ، الفاظ *چوٹ* دیتے ہیں ، الفاظ *تاو* دیتے ہیں ، الفاظ *لڑتے* ہیں ، الفاظ *بکھرتے* ہیں ، الفاظ *جھگڑتے* ہیں ، الفاظ *بگڑتے* ہیں الفاظ *لرزتے* ہیں ... لیکن الفاظ کبھی *مرتے* نہیں الفاظ کبھی *تھکتے* نہیں الفاظ کبھی *رکتے* نہیں ... اس لیے الفاظ سے *کھیلیں* نہیں بغیر سوچے سمجھے *بولیں* نہیں الفاظ کا *احترام* کریں الفاظ پر *غور* کریں الفاظ کو *پہچان* دیں الفاظ کو اونچی *اڑان* دیں الفاظ کو *جذبات* دیں ان سے ان کی *بات* کریں، الفاظ *ایجاد* کریں ... کیونکہ الفاظ *قیمتی* ہیں زبان سے الفاظ *تول* کے بولیں الفاظ میں *دھار* ہوتی ہے الفاظ بہت *اچھے* ہوتے ہیں اور ... حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کی بھی اپنی ایک دنیا🌎 ہے۔ *الفاظ کو* *عزت دیں*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خاموش پرندہ __!!

خاموش پرندہ __!!

حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک شخص نے ایک خوبصورت پرندہ خریدا، وہ جب چہچہاتا تو نہایت دل فریب اور خوش مزاج آواز سے وہ شخص بہت مسرور ہوتا گویا اس پرندے کی آواز بہت ہی سریلی اور پیاری تھی۔ ایک دن اچانک اس پنجرے کے پاس اسی کے جیسا ایک اور پرندہ آیا اور اپنی زبان میں کچھ باتیں کیں اور چلاگیا۔ پنجرے میں موجود پرندہ بالکل خاموش ہوگیا گویا ایسا ہوگیا جیسے وہ گونگا پرندہ ہے۔ اسکے مالک نے دو تین دن انتظار کیا مگر پرندہ بالکل خاموش۔۔۔ وہ شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں اس پرندے کو پنجرے سمیت لایا اور شکایت کہ یہ بہت مہنگا پرندہ خریدا تھا، اسکی آواز مجھے مسرور کرتی تھی مگر اب نجانے کیا ہوا کہ بولتا ہی نہیں! حضرت سلیمان علیہ السلام (جو جانور، چرند، پرند، سب کی بولیاں جانتے تھے) نے اس پرندے سے پوچھا کیا وجہ ہے جو تم خاموش ہوگئے ہو؟ وہ پرندہ عرض گزار ہوا اے اللہ کے برحق نبی! یہ شخص سمجھتا ہے میں خوش ہوکر چہچہاتا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میں دیگر آزاد پرندوں کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اے کاش میں بھی آزاد ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا مگر یہ میری زبان نہیں سمجھتا تو یہ خیال کرتا ہے جیسے میں بہت خوشی سے گنگنا رہا ہوں۔ پھر ایک دن میرا ایک ہم جنس میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ شخص تیری زبان نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہے کہ تو بہت سریلی آواز کے ساتھ خوشی خوشی چہچہا رہا ہے۔ اگر تم اسکی قید سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو رونا چھوڑ دو، بولنا فریاد کرنا بھی چھوڑ دو کہ اس پر تمہارے الفاظ اثر ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ تمہارے درد کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ بس پھر کیا تھا میں تب سے خاموش ہوکر صبر کررہا ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس شخص سے کہا کہ پنجرہ کھول دو اور اس کو آزاد کردو کیونکہ اب یہ پنجرے میں کبھی نہیں بولے گا۔ اس شخص نے کہا اگر اب یہ خاموش ہی رہا تو بلاوجہ اس کو رکھ کر میں کیا کروں گا لہذا اس نے سلیمان علیہ السلام کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے پنجرہ کھول دیا۔ وہ پرندہ فوراً اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھا اور اس شخص کو دیکھ کر کچھ چہچہا کر اڑ گیا۔ اس شخص نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی کہ یہ کیا کہہ کر گیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس نے کہا کہ اگر تو بھی اپنے غموں اور مصائب سے آزاد ہونا چاہتا ہے تو خاموش ہوجا اور صبر کر، کسی سے کچھ شکایت نہ کر تو تجھے بھی ایک دن سارے غموں سے نجات مل جائے گی جو تو لوگوں کو سناتا رہتا ہے مگر وہ بےاحساس لوگ تیری زبان جانتے ہوئے بھی تیری بات نہیں سنتے۔ یہ ایک حکایت ہے. یہ جھوٹی ہے یا سچی اس بحث میں نہ پڑہے، اس طرح کی حکایات سے نصیحت اور سبق حاصل کیا جاتا ہے. __________📝📝__________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ