*میں نہیں جانتا کہ یہ کس مصنف کا کارنامہ ہے۔ لیکن بہترین ہے۔...
Ummah Post
16 November, 2024

*میں نہیں جانتا کہ یہ کس مصنف کا کارنامہ ہے۔ لیکن بہترین ہے۔*

الفاظ *لکھے* جاتے ہیں ،

الفاظ *پڑھے* جاتے ہیں ،

الفاظ *بولے* جاتے ہیں ،

الفاظ *گڑھے* جاتے ہیں

الفاظ *تولے* جاتے ہیں ،

الفاظ *ٹٹولے* جاتے ہیں ،

الفاظ *کھنگالے* جاتے ہیں ،

... اس طرح

الفاظ *بنتے* ہیں ،

الفاظ *سنورتے* ہیں ،

الفاظ *بہتر* ہوتے ہیں ،

الفاظ *نکھرتے* ہیں ،

الفاظ *ہنساتے* ہیں ،

الفاظ *مناتے* ہیں ،

الفاظ *رلاتے* ہیں ،

الفاظ *مسکراتے* ہیں ،

الفاظ *گدگداتے* ہیں ،

الفاظ *میٹھے* ہوتے ہیں

... اتنا ہونے کے بعد بھی

الفاظ *چبھتے* ہیں ،

الفاظ *بکتے* ہیں ،

الفاظ *روٹھتے* ہیں ،

الفاظ *چوٹ* دیتے ہیں ،

الفاظ *تاو* دیتے ہیں ،

الفاظ *لڑتے* ہیں ،

الفاظ *بکھرتے* ہیں ،

الفاظ *جھگڑتے* ہیں ،

الفاظ *بگڑتے* ہیں

الفاظ *لرزتے* ہیں

... لیکن

الفاظ کبھی *مرتے* نہیں

الفاظ کبھی *تھکتے* نہیں

الفاظ کبھی *رکتے* نہیں

... اس لیے

الفاظ سے *کھیلیں* نہیں

بغیر سوچے سمجھے *بولیں* نہیں

الفاظ کا *احترام* کریں

الفاظ پر *غور* کریں

الفاظ کو *پہچان* دیں

الفاظ کو اونچی *اڑان* دیں

الفاظ کو *جذبات* دیں

ان سے ان کی *بات* کریں،

الفاظ *ایجاد* کریں

... کیونکہ

الفاظ *قیمتی* ہیں

زبان سے الفاظ *تول* کے بولیں

الفاظ میں *دھار* ہوتی ہے

الفاظ بہت *اچھے* ہوتے ہیں

اور

... حقیقت یہ ہے کہ

الفاظ

کی

بھی

اپنی

ایک دنیا🌎 ہے۔

*الفاظ کو*

*عزت دیں*

Share this article
حضرت یوسف اور موسیٰ: قرآنی موازنہ اور تدبر
مضامین

حضرت یوسف اور موسیٰ: قرآنی موازنہ اور تدبر

حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت موسی کو بھی پانی میں ڈالا گیا۔ حضرت یوسف مصر میں تھے تو حضرت موسی بھی مصر میں تھے۔ حضرت یوسف نے محل میں زندگی گزاری تو حضرت موسی نے بھی فرعون کے محل میں پرورش پائی۔ حضرت یوسف کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی اور حضرت موسی کو اٹھانے والوں کی بھی ا...