عرب عورتوں کی یہ روائت تھی کہ وہ اپنے بچے کو اس حالت میں نہیں سلاتی تھیں جب وہ روتا ہو، اس خوف سے کہ غم اس کے جسم میں سرایت کر کے اس کی رگوں میں دوڑنے لگے گا۔ وہ اپنے بچے کو مسکراہٹ دلانے کی کوشش کرتیں، اسے خوش کرنے کی جدوجہد کرتیں تاکہ وہ سکون سے سو سکے، جس سے اس کا جسم مضبوط ہوتا، رنگت اور خون میں بہتری آتی اور ذہن کو آرام ملتا۔
— مروج الذهب | المسعودی