جن چیزوں سے رسول اللّٰه ﷺ نے اللہﷻ کی پناہ مانگی، وہ مندرجہ ذیل ہیں ‏1. قرض سے۔ (بخاری: 6368) ‏2. برے دوست سے۔ (طبرانی کبیر: 810) ‏3. بے بسی سے۔ (مسلم: 2722) ‏4.جہنم کے عذاب سے۔ (بخاری: 6368) ‏ 5. قبر کے عذاب سے۔ (ترمذی: 3503) ‏6. برے خاتمے سے۔ (بخاری: 6616) ‏7. بزدلی سے۔ (مسلم: 2722) ‏8. کنجوسی سے۔ (مسلم: 2722) ‏9. غم سے۔ ( ترمذی: 3503) ‏10. مالداری کے شر سے۔( مسلم: 2697) ‏11. فقر کے شر سے۔ (مسلم: 2697) ‏12. ذیادہ بڑھاپے سے۔ بخاری: 6368] ‏13. جہنم کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368] ‏14. قبر کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368] ‏15. شیطان مردود سے۔ بخاری: 6115] ‏16. محتاجی کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368] ‏17. دجال کے فتنے سے۔ بخاری: 6368] ‏18. زندگی اور موت کے فتنے سے۔ بخاری: 6367] ‏19. نعمت کے زائل ہونے سے۔ مسلم: 2739] ‏20. الله کی ناراضگی کے تمام کاموں سے۔ [مسلم: 2739] ‏21. عافیت کے پلٹ جانے سے۔ مسلم: 2739] ‏22. ظلم کرنے اور ظلم ہونے پر۔ نسائی: 5460] ‏23. ذلت سے۔ نسائی: 5460] ‏24. اس علم سے جو فائدہ نہ دے۔ ابن ماجہ: 3837] ‏25. اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔ ابن ماجہ: 3837] ‏26. اس دل سے جو ڈرے نہیں۔ (ابن ماجہ: 3837] ‏27. اس نفس سے جو سیر نہ ہو۔ (ابن ماجہ: 3837] ‏28. برے اخلاق سے۔ [ حاکم: 1949] ‏29. برے اعمال سے۔ [حاکم: 1949] ‏30. بری خواہشات سے۔ ‏[حاکم: 1949] ‏31. بری بیماریوں سے۔ ‏[حاکم: 1949] ‏32. آزمائش کی مشقت سے۔ ‏[بخاری: 6616] کے ‏33. سماعت کے شر سے۔ ‏[ابو داﺅد: 1551] ‏34. بصارت کے شر سے۔ ‏[ابو داﺅد: 1551] ‏35. زبان کے شر سے۔ ‏[ابو داﺅد: 1551] ‏36. دل کے شر سے۔ ‏[ابو داﺅد: 1551] ‏37. بری خواہش کے شر سے۔ ‏[ابو داﺅد: 1551] ‏38. بد بختی لاحق ہونے سے۔ ‏[بخاری: 6616] ‏39. دشمن کی خوشی سے۔ ‏[بخاری: 6616] ‏40. اونچی جگہ سے گرنے سے۔ ‏[نسائی: 5533] ‏41. کسی چیز کے نیچے آنے سے۔ ‏[نسائی: 5533] ‏42. جلنے سے۔ ‏[نسائی: 5533] ‏43. ڈوبنے سے۔ ‏[نسائی: 5533] ‏44. موت کے وقت شیطان کے ‏بہکاوے سے۔ [نسائی: 5533] ‏45. برے دن سے۔ ‏[طبرانی کبیر: 810] ‏46. بری رات سے۔ ‏[طبرانی کبیر: 810] ‏47. برے لمحات سے۔ ‏[طبرانی کبیر: 810] ‏48. دشمن کے غلبہ سے۔ ‏[نسائی: 5477] ‏49. ہر اس قول و عمل سے ‏جو جہنم سے قریب کرے۔ ‏[ابو یعلی: 4473] ‏50. کفر سے۔ ‏[ابو یعلی: 1330] ‏51. نفاق سے۔ ‏[حاکم: 1944] ‏52. شہرت سے۔ ‏[حاکم: 1944] ‏53. ریاکاری سے۔ ‏[حاکم: 1944] ‏" حضرت محمدﷺ اللّٰهﷻ کے نبی اور آخری رسول ہیں. "حضرت محمدﷺ کو اللّٰهﷻ نے معصوم پیدا فرمایا. ‏نہ رسول اللّٰهﷺ کو شیطان بہکا سکتا تھا اور نہ ہی دنیا کی کسی چیز کا خوف. رسول اللّٰهﷺ نے امت کی تعلیم کے لیے یہ دعائیں مانگ کر امت کو سکھایا کہ ان چیزوں سے پناہ مانگیں. ‏اے اللّٰهﷻ ! ہم ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں جس سے رسول اللّٰهﷺ نے مانگی... ہے

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

ایک حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے... فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے پچھلی اُمتوں کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا... کہ ایک شخص تھا جس نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا... بڑے بڑے گناہ کئے تھے... بڑی خراب زندگی گزاری تھی... اور جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کرتے ہوئے کہا... کہ میں نے اپنی زندگی کو گناہوں اور غفلتوں میں گزار دی ہے... کوئی نیک کام تو کیا نہیں ہے... اس لئے جب میں مرجاؤں تو میری نعش کو جلا دینا اور جو راکھ بن جائے تو اس کو بلکل باریک پیس لینا... پھر اس راکھ کو مختلف جگہوں پر تیز ہوا میں اُڑادینا تاکہ وہ ذرّات دور دور تک چلے جائیں... یہ وصیت میں اس لئے کر رہا ہوں... کہ اللہ کی قسم میں اللہ تعالٰی کے ہاتھ آگیا تو مجھے اللہ تعالٰی ایسا عذاب دے گا... کہ ایسا عذاب دنیا میں کسی اور شخص کو نہیں دیا ہوگا... اس لئے کہ میں نے گناہ ہی ایسے کئے ہیں کہ اس عذاب کا مستحق ہوں... جب اس شخص کا انتقال ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی نعش کو جلایا... پھر اس کو پیسا اور پھر ہواؤں میں اُڑادیا... جس کے نتیجے میں اس کے ذرات دور دور تک بکھر گئے... یہ تو اس کی حماقت کی بات تھی کہ شاید اللہ تعالٰی میرے ذرّات کو جمع کرنے پر قادر نہیں ہوں گے... چنانچہ اللہ تعالٰی نے ہوا کو حکم دیا کہ اس کے ذرات جمع کرو... جب ذرات جمع ہوگئے تو اللہ تعالٰی نے حکم دیا... کہ اس کو دوبارہ مکمل انسان جیسا تھا ویسا بنادیا جائے... چنانچہ وہ دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کیا گیا... اللہ تعالٰی نے اس سے سوال کیا کہ تم نے اپنے گھر والوں کو یہ سب عمل کرنے کی وصیت کیوں کی تھی؟ جواب میں اس نے کہا "خـــشیـتک یارب" اے اللہ آپ کے ڈر کی وجہ سے... اس لئے کہ میں نے گناہ بہت کئے تھے اور ان گناہوں کے نتیجے میں مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں آپ کے عذاب کا مستحق ہوگیا ہوں... اور آپ کا عذاب بڑا سخت ہے تو میں نے اس عذاب کے ڈر سے یہ وصیت کردی تھی... اللہ تعالٰی فرمائیں گے کہ میرے ڈر کی وجہ سے تم نے یہ عمل کیا تھا... تو جاؤ میں نے تمہیں معاف کردیا... یہ واقعہ خود حضور اقدسﷺ نے بیان فرمایا جو صحیح مسلم میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے ـ (صحیح مسلم کتاب التوبة و تنبیہ الغافلین) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں؟ ( صفحہ نمبر : ۳۳۶، ۳۲۷ ) مولف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ