*گھاس* سے  *ساگ*

ساگ اصل میں گھاس ہی تھا...
پرانے زمانے میں...
Ummah Post
18 November, 2024

*گھاس* سے *ساگ*

ساگ اصل میں گھاس ہی تھا...

پرانے زمانے میں لوگوں نے جب یہ گھاس پکا کر چکھی تو بہت اچھی لگی...

لیکن کوئی پوچھتا کہ کیا کھایا ہے؟

تو بتاتے ہوئے شرم آتی کہ ہم نے گھاس کھائی ہے..

چنانچہ ایک دن ایک دانا بابا جی نے کچھ دیر غوروفکر کے بعد لفظ گھاس کو الٹ دیا...

اب اس کا نام ساگھ پڑ گیا...

پھر زمانے کے گزرنے کے ساتھ نام میں تخفیف ہوئی تو ساگھ سے ساگ ہو گیا...

اب پنجاب کے دیہی علاقوں میں یہ ایک معزز سبزی کے طور پر کھایا جاتا ہے...

جبکہ اسکی اصل وہی ہے جو پہلی سطر میں مذکور ہے.

Share this article
چشمِ خطا پوش  :
مضامین

چشمِ خطا پوش :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خو...