نمبر ۱ : ہر ملک بشمول سعود یہ اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی پہ مجبور ہو گیا۔ نمبر ۲ : اسرائیل جنگی طاقت میں چوتھے نمبر پر تھا اب اسکا وہ مقام جاتا رہا۔ نمبر ۳ : اخبارات سے پتہ چلا کہ کم و بیش ۳۰۰ فوجیوں کو یر غمال بنا لیا جس میں کچھ تو میجر اور جنرل بھی ہیں جبکہ ۲۰۰ کے قریب شہریوں کو بھی قید کیا جو حکومت میں اونچے عہدوں پہ ہیں ۔ نمبر ۴ : چار فوجی چھاؤنیوں سے ایسے اسلحے کا ذخیرہ سمیٹا جو کاندھے پہ اٹھائے جاسکتے ہیں۔ نمبر ۵ : ۱۵۰ سے زیادہ ٹینکوں کو بھسم کیا۔ - نمبر ۶ : موساد کے مختلف ٹھکانوں کو تباہ کر کے انکے لیپ ٹوپ پر قبضہ کیا جن میں غزہ یا میڈل ایسٹ میں اسرائیلی جاسوسوں کے پتے درج ہیں ۔ نمبر ۷ : فوجیوں اور پولیس کے چھوٹے راڈاروں اور درجنوں وائر لیس پہ قبضہ جمالیا جو غزہ سے چالیس کلومیٹر کے دائرے میں ایکٹیو تھے۔ نمبر ۸ : ۱۵۰۰۰ راکٹ داغے جن سے دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا عسقلان اور اس کے قرب و وجوار سے ۵ لاکھ اسرائیلیوں کو گھر بار چھوڑ کے رفیوجی بننے پر مجبور کر دیا۔ نمبر ۹ : ۳۵۰۰ اسرائیلیوں کو جہنم واصل کیا۔ نمبر ۱۰ : دنیا کے سات بڑے ملکوں کی انٹلی جینس کو فیل کر کے اپنے ھدف کو انجام دیا جس سے ان کی ناک کٹ گئی۔ نمبر ۱۱ : فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطحپہ مکمل زندہ کردیا نمبر ۱۲: اسرائیل کے سفیروں کو کچھ ملکوں سے بھگا دیا گیا۔ نمبر ۱۳ : مغربی ممالک کے عام شہریوں کی نگاہ میں ان کی حکومتوں کو ننگا کر دیا۔ نمبر ۱۴ : سعودیہ اور عرب ممالک میں چھپے ہوئے منافق بادشاہوں اور ان کے چمچوں کے چہرے سے نقاب نوچ لیا ۔ نمبر ۱۵ : اس حملے کے بعد اسرائیل کی معیشت گرتی جارہی ہے۔ نمبر ۱۶ : اسرائیلی وزیر اعظم کو اس کی عوام کی نظروں میں دو کوڑی کا بنا دیا۔ نمبر ۱۷ : تمام عالم اسلام کے جوانوں میں شہادت سے محبت پیدا کر دی اور قبلہ اول پر مرمٹنے کا جذبہ بیدار کر دیا ۔ نمبر ۱۸ : جتنی مسلم حکومتیں امریکہ کے پیشاب کی دھار دیکھ کے اپنا قبلہ طے کرتی ہیں انہیں ننگا کر دیا۔ نمبر ۱۹ : محمد مرسی وغیرہ کو کس لیے قتل کروایا گیا تھا اس پہ پھر سے بحث چھڑ گئی اور لوگ صاف صاف کہنے لگے کہ ان کے قتل سے عالم اسلام کا کیا نقصان ہوا۔ نمبر ۲۰ : سلفی یا سعودیہ کے ریال پر پلنے والے منافق علماء کے چہرے لوگوں کو واضع ہو گیے ۔ نمبر ۲۱ : یہودیوں کے خلاف مسیحیوں اور دیگر لوگوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بو دیا۔ نمبر ۲۲: فلسطینی زمینوں پر قبضہ کر کے جتنے گاؤں بسائے گئے ہیں اب ایک بھی اسرائیلی رات کو چین سے نہیں سو سکتا کہ نہ جانے کب یہ لوگ کس سوراخ سے نکل کے ہمیں ختم کر دیں یہ خوف رواں حملے سے پیدا ہوا۔ نمبر ۲۳ : چند عمر دراز بندھکوں کو رہا کر کے دنیا کو بتا دیا کہ وہ وہ نہیں جو مغربی میڈیا انہیں بتا رہا ہے۔ نمبر ۲۴ : دنیا کے مختلف دیشوں میں سڑکوں پر مظاہرین نکل آئے جو یہودیوں اور ان کے حواریوں سے نفرت کرتے ہیں۔ نمبر ۲۵ : دنیا کے مختلف ملکوں کی پارلیمینٹ تک میں ان کی آواز میں آواز ملائی جانے لگی۔ نمبر ۲۶ : اسرائیل کو ڈیفینس کا حق ہے کی آڑ میں امریکہ بہادر جو ظلم کرواتا ر ہا روس جیسے ملک نے ایک ایک پوائنٹ واضح کر کے بتایا کہ اسرائیل غاصب ہے اسرائیل نہیں بلکہ فلسطینیوں کو سیلف ڈیفینس کا حق ملنا چاہیے۔ نمبر ۲۷ : چین کا بھی موقف اسرائیل کے خلاف واضح ہو چکا ہے۔ نمبر ۲۹ : شب معراج حضور پر نور صلی اللہ علیہ و سلم نے جس مقام پر انبیاء کی امامت کی اس مقام کی کس کے دل میں کتنی اہمیت ہے تڑپ ہے محبت ہے سب پر آشکار کر دیا۔ یہ وہ بڑے بڑے فائدے نظر آرہے ہیں جن کا میں نے احاطہ کیا ہے جبکہ چھوٹے موٹے فائدوں کا ذکر کیا کرنا !

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

امریکی تاریخ کی عجیب خودکشی

امریکی تاریخ  کی عجیب خودکشی

رونالڈ أوبوس نام کے شخص نے خودکشی کرنی چاہی تو سب سے آسان طریقہ استعمال کیا اور وہ یہ کہ اس عمارت سے چھلانگ لگا دے جسمیں وہ رہتا تھا۔ اس نے عمارت کی دسویں منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنوں کے لیے خط چھوڑا جسمیں اس نے خودکشی کی وجہ یہ بتائی کہ وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تھا۔ لیکن 23 مارچ 1994 کو جب پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ رونالڈ کی موت کی وجہ چھت سے گرنے سے نہیں بلکہ سر پر گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ رونالڈ کو گولی اسی عمارت سے لگی ہے جسمیں وہ رہتا تھا اور وہ گولی نویں منزل سے چلائی گئی تھی اور اس نویں منزل میں دو بوڑھے میاں بیوی کئی سالوں سے رہ رہے تھے۔ اور ہمسایوں سے معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے تھے اور عجیب بات یہ تھی کہ جب رونالڈ نے چھت پر سے اپنے آپ کو پھینکا تو عین اسی وقت بوڑھا شوہر پستول تھامے اپنی بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہاتھا۔ شدید غصے و ہیجان کی حالت میں شوہر نے غیر ارادی طور پر اپنی بیوی پر گولی چلائی لیکن چونکہ بیوی نشانے سے دور تھی اسلیئے گولی اس وقت کھڑکی سے نکلی اور عین اسوقت جب رونالڈ نے خودکشی کے لیے چھلانگ لگائی جس سے وہ گولی اسکے سر میں لگی ،جس کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوئی۔ (کہانی میں ٹوِسٹ ابھی باقی ہے) عدالت میں بوڑھے شوہر پر غیر ارادی طور پر قتل کا مقدمہ چلا لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ وہ میاں بیوی ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور وہ ہر وقت اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے لیکن پستول ہر وقت فارغ ہی رہتا ہے اسمیں گولیاں نہیں ہوتیں۔ مزید تحقیقات کرنے پر عجیب بات یہ معلوم ہوئی کہ بوڑھے جوڑے کے رشتہ داروں میں سے کسی نے ایک ہفتہ قبل ان میاں بیوی کے بیٹے کو پستول میں گولیاں ڈالتے دیکھا تھا ۔ وجہ اسکی یہ تھی کہ ماں نے بیٹے کو مالی امداد دینے سے منع کر دیا تھا۔ تو بیٹے نے بوڑھے ماں باپ سے جان چھڑانے کی سوجھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور لڑتے ہوئے وہ خالی پستول ماں پر تھان لیتا ہے اسلیئے اس نے پستول میں گولی لوڈ کی تاکہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرے۔ لیکن گولی اسکی ماں کو نہ لگی اور وہ رونالڈ کے سر میں اسوقت لگی جب وہ خودکشی کر رہا تھا۔ اور اسطرح قتل کی تہمت کا مقدمہ باپ سے ہٹ کر بیٹے پر جا لگا۔ (حیران ہو گئے۔۔ عقل گھوم گئی۔۔ اچھا اب میرے ساتھ کہانی پر نظر رکھو) ساری واقعے میں سب سے عجیب بات یہ کہ رونالڈ بذات خود ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کا بیٹا تھا اور اس نے ہی پستول میں گولی ڈالی تھی تاکہ وہ اپنے ماں باپ سے خلاصی پا سکے۔ لیکن مالی حالات خراب ہونے اور باپ کا اسکی ماں کو مارنے میں تاخیر کرنے کی وجہ سے اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا اور اوپری منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے وہی گولی اسکو لگی جو اس نے خود پستول میں ڈالی تھی اس طرح وہ بذات خود قاتل بھی ہوا اور مقتول بھی۔ نوٹ: یہ کہانی افسانوی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس سے صرف یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جو جیسا کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے۔