عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یا د رہتی ہیں۔ -------------------------------------------------------------------------- إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ (سورۃ یوسف، آیت:28) ترجمہ: عورتوں کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے۔ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰع (سورة النساء، آیت:3) ترجمہ: دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرو الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (سورة النساء، آیت:34) ترجمہ: مرد، عورتوں کے نگران ہیں۔ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (سورۃ النساء، آیت:11) ترجمہ: (وراثت میں ) مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ نَاقِصَاتُ عَقْلٍ وَدِينِ(صحیح ابن حبان، رقم الحدیث 3323، اسنادہ صحیح) ترجمہ: عورتیں عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہے۔ -------------------------------------------------------------------------- عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یاد نہیں رہتیں۔ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (سورة النساء، آیت:19) ترجمہ: عورتوں کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارو لِيُنفِقُ ذُو سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهِ (سورۃ الطلاق، آیت:7) ترجمہ: کشادگی والا اپنی کشادگی میں سے خرچ کرے اسْتَوصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1851 ، صیح لغیرہ ) ترجمہ: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں تم وصیت قبول کرو۔ رِفْقًا بِالْقَوَارِيرِ (مسند الحمیدی، رقم الحدیث: 1209، اسنادہ حسن) ترجمہ: (عورتیں شیشہ کی طرح ہیں) ان شیشوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَأَهْلِهِ (ابن ماجہ 1977 صحیح لغيره ) ترجمہ: بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے بہترین ہو۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دل اور دماغ کا باہمی ربط___!!!

دل اور دماغ کا باہمی ربط___!!!

دنیا دل اور دماغ کو ایک ہی خانہ میں رکھ دیتی ہے، دونوں کا سرا ایک دوسرے سے یوں ملادیتی ہے، جیسے ان میں کوئی بھی فرق نہ ہو اور نا کوئی امتیاز ہو یا پھر ایک انتہا یہ ہے؛ کہ دونوں کے درمیان اس قدر دوری پیدا کردیتی ہے، کہ جیسے دونوں کا وجود ہی ایک دوسرے سے دور رہنا اور متفرق رہنا ہو____ صحیح بات یہ ہے کہ دونوں ہی راستے انتہا پسندی کے ہیں، دل اور دماغ دونوں ایسے تار ہیں کہ جب تک وہ ایک دوسرے سے نہ ملیں کوئی چیز وجود میں نہیں آتی، میڈیکل سائنس بھی دونوں کو باہم رفیق تصور کرتی ہے، یہ بات الگ ہے کہ دونوں کا فکری امتیاز ہے، دونوں میں درد کا اور اپنائیت کا تعلق ہے، ایک سے کوئی کسی چیز کا ادراک کرتا ہے، تو دوسرے سے اس ادراک کا حسن و قبح جانتا ہے، ہمیشہ دل پر منحصر رہنا یا پھر ہمیشہ دماغ کو ہی اپنا رفیق ماننا مناسب نہیں ہے، اکثر و بیشتر اس رشتہ کو توڑ دیا جاتا ہے جو دونوں عناصر کے درمیان ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی دفعہ انتہاپسندی، تعصب اور کبھی بزدلی، بے دلی اور بے پروائی کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ دونوں ایک ہنس مکھ اور ایک دوسرے کے معاون ہیں، مددگار ہیں، چنانچہ جس طرح دو متضاد وائر کو مناسب طور پر نہ ملایا جائے تو بلاسٹ ہوجاتا ہے، اسی طرح اگر دل و دماغ کے دونوں وائر بھی بہتر طریقے پر نہ ملائے جائیں تو تخریب کا ہی دروازہ کھلتا ہے، کہتے ہیں مغربی ممالک نے دماغ کا دروازہ کھولا تو ترقی پائی اور مشرقی ممالک نے دل کے درازے کھول کر ترقی پائی؛ اسی لئے دونوں ندی کے دو کنارے پر ہیں، کوئی میل ملاپ نہیں ہے، ایک دل کی دنیا آباد کرنے کو کہتا ہے، تو دوسرا مشینوں کو آباد کرنا چاہتا ہے؛ لیکن چونکہ دونوں الگ الگ ہیں اس لئے دونوں میں افتراق ہے، اختلاف اور بسااوقات انتشار بھی پایا جاتا ہے۔ اس دل اور دماغ کے رشتے کو جناب کلیم عاجز صاحب مرحوم نے بہت خوب سمجھا ہے اور سمجھایا ہے، وہ پڑھنے کے قابل ہے، آپ رقمطراز ہیں: "__ ہاں ایک بات عرض کروں گا_ لوگ دل کی باتوں کو بہت زیادہ دماغی باتوں سے آراستہ کر کے اور تہہ دار بنا کر پیش کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ میں دل اور دماغ کو علاحدہ علاحدہ کار فرما اور عامل نہیں مانتا۔ دونوں کا عمل متوازی ہے، اس لئے انہیں متوازن ہی رہنا چاہئے۔ اور یہ توازن فطری ہے۔ بغیر دونوں کے اشتراک عمل کے فن پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ میں " نکتہ چند بہ پیچیدہ بیانے" کا بالکل قائل نہیں ۔ میں دونوں میں کسی کو حاکم و محکوم، غالب و مغلوب نہیں سمجھتا۔ یہ ہنس مکھ ساتھی ہیں۔ ایک دوسرے کے فرمانبردار، ایک دوسرے کے یار، ایک دوسرے کے حال آشنا، رمز شناس و معاون و مددگار ہیں۔ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، شانہ سے شانہ ملائے، قدم بہ قدم چلتے ہیں۔ کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کرتا۔ میرے یہاں دونوں کی ہم آہنگی، ہم مزاجی مقدم ہے۔ میں نے چبا کر بھی بات نہیں کی ہے، دل کھول کر رکھ دیا ہے اور دل والوں کے سامنے رکھا ہے۔ دماغ والوں کے سامنے رکھا ہے۔اور یقین سے رکھا ہے۔ اعتماد سے رکھا ہے۔ اسی اعتماد سے جس اعتماد سے میر صاحب کہتے ہیں کہ: باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنئے گا کہتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئے گا (وہ جو شاعری کا سبب ہوا__:۱۷۵) ✍ محمد صابرحسین ندوی