ایک مرتبہ ملا نصیر الدین کا ایک فقیر نے گھر دیکھ لیا۔ اب وہ...
Ummah Post
24 March, 2024

ایک مرتبہ ملا نصیر الدین کا ایک فقیر نے گھر دیکھ لیا۔ اب وہ روز آتا اور کھانے پینے کے سامان کے ساتھ کچھ پیسے بھی مانگ کر لے جاتا ۔ ملا نصیر الدین اس سے عاجز آگئے تھے اور اس سے پیچھا چھڑانے کی کوئی ترکیب سوچ رہے تھے۔

ایک دن ملا نصیر الدین کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ وہی فقیر نازل ہو گیا۔ ملا نصیر الدین نے جھڑک کر دریافت کیا۔

”آخر تو ہے کون؟ جو روز نازل ہو جاتا ہے؟“

فقیر نے سادگی سے جواب دیا۔ خدا کا مہمان ! ملا نصیر الدین فوراً باہر نکلے۔ فقیر کا ہاتھ پکڑا اور شہر کی جامع مسجد لے گئے ۔ مسجد کے اندر پہنچا کر کہا۔ اب تک تو سخت دھو کے میں تھا۔ وہ گھر جہاں تو ہر روز پہنچتا تھا میرا گھر ہے لیکن جب تو نے بتایا کہ تو خدا کا مہمان ہے تو میں نے اس میں بے حرمتی محسوس کی کہ خدا کے مہمان کو خدا کے گھر سے لاعلم رکھوں ۔“ اس کے بعد واپس آتے ہوئے کہا۔ ”خبردار ! جو تو نے میرے گھر کا رخ کیا۔ خدا کے مہمان ! خدا کے گھر کو اچھی طرح پہچان لے اور ادھر ادھر مت بھٹکتا پھر ۔

Share this article
باپ کا آخری خط
مضامین

باپ کا آخری خط

کہانی کا عنوان: "ابو نے کہا تھا جلد واپس آؤں گا... مگر گیارہ سال گزر گئے" میں صرف آٹھ سال کا تھا جب ابو نے گھر سے جاتے ہوئے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا: "بیٹا، بس چند مہینوں کی بات ہے... پھر میں واپس آ جاؤں گا۔" اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ بعض "چند مہینے" پورا بچپن نگل جاتے ہیں۔ ہما...