*کتاب:مجالس صدیق جلد۱ ص۷۰* *افادات:حضرت مولانا سید صدیق احمد صاحب باندویؒ* *کڑھن اور تکلیف کی بات* فرمایا: میرے لئے سب سے زیادہ کڑھن اور تکلیف کی بات اس وقت ہوتی ہے جب میں دینی مدارس میں کوئی منکر دیکھتا ہوں اور اس پر روک ٹوک بھی نہیں ہوتی تو سخت تکلیف ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے آگ لگادی، مدرسوں میں رہ کر منکر کام ہو کتنے تعجب کی بات ہے، ارے غلطی ہوجاتی ہے، لیکن روک ٹوک کے بعد بھی اثر نہ ہونا یہ ہے افسوس کی بات اور اسی سے دل کڑھ کر رہ جاتا ہے، میرے کوئی روزانہ سو۱۰۰ جوتے لگالے یہ مجھے برداشت ہے لیکن منکر دیکھنا مجھے برداشت نہیں ، کڑھ کڑھ کر رہتا ہوں بہت ضبط کرتا ہوں ، میرے لئے یہی بڑا مجاہدہ ہے اور بڑا سخت مجاہدہ ہے، میں سوچتا ہوں کہ جب دینی مدارس میں ان باتوں کی فکر نہ ہوگی اور منکرات پر نکیر نہ کی جائے گی تو پھر کہاں ہوگی۔ آج میں صبح کے وقت آیا تو دیکھا کہ تیز بلب جل رہا ہے اور لوگ سورہے ہیں ، اتنی تیز روشنی کا بلب جلانے کی کیا ضرورت ہے، اتنا بڑا بلب اگر مدرسہ کے صحن میں لگا دیا جائے تو سارا مدرسہ روشن ہوجائے، اسی قسم کے منکرات دیکھ کر مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چشمِ خطا پوش :

چشمِ خطا پوش  :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خود وہاں آ پہنچا، خزانچی نے اس شخص کا تذکرہ اس کے سامنے کیا اور خط بھی دکھایا، فضل بن ربیعؒ نے خط دیکھنے کے بعد ایک نظر اس شخص کے چہرے پر ڈالی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا، فضل بن ربیعؒ سر جھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا " تمہیں معلوم ہے میں اس وقت تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟" خزانچی نے نفی میں گردن ہلادی، فضل بن ربیعؒ نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراً ادا کر کے اس کی ضرورت پوری کرو" خزانچی نے فوراً ہزار دینار تھیلی میں ڈال کر اس شخص کے سپرد کردیئے، وہ شخص ہکا بکا رہ گیا، گھبراہٹ کے عالم میں کبھی وہ فضل بن ربیعؒ کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی خزانچی کے، فضل بن ربیعؒ قریب ہوکر اس سے مخاطب ہوا "گھبراؤ نہیں اور راضی خوشی گھر کا رخ کرو " اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیعؒ کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا، "آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا، روز قیامت اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے" یہ کہہ کر اس نے دینار لئے اور نکل آیا ـ ( المستطرف ص:۲۰۶) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں (صفحہ نمبر ۹۴ ) مصنف : ابن الحسن عباسی ؒ