▫️ایک دن ایک شخص نے اپنی بیوی سے پوچھا: محبت کسے کہتے ہیں؟ بیوی نے کہا: ماضی میں لوگ محبت میں قربانی دیتے تھے اور حال میں محبت تفریح اور دل لگی کا ذریعہ ہے - پھر اس نے پوچھا : دوستوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بیوی نے کہا: ماضی میں ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ایک دوست ہوتا تھا، جو ہمارا ساتھ دیتا تھا - اور اب ہر مشکل گھڑی کے ساتھ ہم ایک دوست کو کھو دیتے ہیں - دوست ہمیں مشکل حالات میں دیکھ کر چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں - اس نے پوچھا: رشتہ داروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: “ماضی میں رشتہ دار سہارا ہوتے تھے اور حال میں یہ حسد کرنے والے ہیں ” سچ تو یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ پیسے کی محبت ہے جو لوگوں کے ذہنوں اور دلوں پر حاوی ہے،!!!💯👍🏻💞

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خدمت کا اخلاقی پہلو: ایک عورت کی کہانی

خدمت کا اخلاقی پہلو: ایک عورت کی کہانی

شیخ محمد راوی سے ایک عورت نے سوال پوچھا کہ ان کے شوہر کی والدہ بیمار رہتی ہیں۔ شوہر تقاضا کرتا ہے کہ میں ان کے ماں کی خدمت کروں اور  مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا۔ کیا مجھ پر شوہر کے ماں کی خدمت واجب ہے؟ شیخ نے جواب دیا نہیں تجھ پر شوہر کے ماں کی خدمت ہرگز واجب نہیں ہے ہاں البتہ تمہارے شوہر پر واجب ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرے۔ پھر شیخ نے تین حل پیش کیے پہلا حل والدہ کو گھر لیکر آئیں اور دن رات آپ کے شوہر اور اس کے بچے اپنی ماں اور دادی کی خدمت کرے ان پر یہ واجب ہے یاد رکھیں آپ پر واجب نہیں ہے۔ دوسرا حل والدہ کو الگ گھر میں رکھیں اور انکی دیکھ بھال خدمت و خبر گیری کے لیے وہاں جاتا رہے اگر والدہ یہ تقاضا کرے کہ رات ان کے سرہانے گزارے تو ماں کے پاس رات رکنا ان پر واجب ہے، یاد رکھیں آپ پر واجب نہیں ہے۔ تیسرا حل والدہ کی دیکھ بھال کے لئے ایک نرس رکھ لیں اگر نرس کے لیے تنخواہ دینے میں حرج ہو تو گھر کے اخراجات کم کرکے نرس کی تنخواہ دے، نرس کی موجودگی میں والدہ کے پاس آتے جاتے فتنے میں پڑنے کا خطرہ ہو نرس سے شادی کرنا واجب ہوگا، اس طرح وہ تین نیکیوں کو جمع کرے گا دوسری شادی کا اجر، ماں کی خدمت کا اجر اور فتنے سے بچنے کا اجر ۔ البتہ آپ پر شوہر کے ماں کی خدمت واجب نہیں ہے، لہذا آپ عزت کے ساتھ اپنے گھر رکی رہیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد عورت بولی، شیخ صاحب شوہر کی ماں بھی میری ماں جیسی ہے واجب نہیں تو مستحب سہی میں خود اسکی خدمت کروں گی۔ منقول