صالحین میں سے ایک شخص کا واقعہ

صالحین میں سے ایک شخص روزانہ شہر کی دیوار پر کھڑے ہوکر رات میں یہ آواز لگاتا تھا ''چلو قافلے کے چلنے کا وقت آگیا ہے''ـ جب اس کا انتقال ہوگیا تو شہر کے حاکم کو یہ آواز نہیں سنائی دی ـ تحقیق پر پتہ چلا کہ اس کی وفات ہوگئی ہے تو امیر نے یہ اشعار پڑھے ـ مَا زَالَ يَلْهَجُ بِالرَّحِيلِ وَذِكْرِه حَتَّى انَاخَ بِبَابِهِ الْجَمَّالُ فَأَصَابَهُ متیقظا مُتَشَمِّرًا ذَا أَهْبَةٍ لَمْ تُلْهِهِ الْآمَالُ اشعار کا ترجمہ: '' وہ برابر کوچ کی آواز اور اس کے تذکرے سے دلچسپی لیتا رہا یہاں تک کہ خود اس کے دروازے پر اونٹ بان (موت کے فرشتے کی طرف اشارہ ہے) نے پڑاؤ ڈالا ـ چنانچہ اسے بیدار' مستعد اور تیار پایا ـ کھوٹی آرزوئیں اسے غافل نہ کرسکیں" ـ (التذکرۃ فی احوال الموتی والآخرۃ ۱۰) کتاب : اللہ سے شرم کیجئے (صفحہ ۱۹۲) مصنف: مفتی سلمان منصوری پوری انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​عبرت و بصائر

​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبادت و طاعت کے لئے سہارا بنے اور آخرکار جنت تک پہنچ سکوں ـ ❷ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ حمام میں جانے لگے تو حمام والے نے روک دیا اور کہنے لگا کہ اجرت کے بغیر نہیں جاسکتے ـ آپ رو کر کہنے لگے اے اللہ! شیاطین اور فساق لوگوں کے آنے کا مقام ہے اور مجھے یہاں مفت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو میں انبیاء اور صدیقین کے مقام یعنی جنت میں کیسے داخل ہوسکوں گاـ؟ ❸ منقول ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی آسمانی تعلیمات اور وحی میں یہ بات ملتی ہے کہ اے ابن آدم! تو دوزخ کو بھاری قیمت سے خریدتا ہے مگر جنت کو سستے داموں نہیں لیتا ـ جس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک فاسق آدمی اپنے جیسے فاسقوں کی دعوت کرتا ہے اور اس پر سینکڑوں روپے کا خرچ بھی معمولی سمجھتا ہے تو یہ اس کا دوزخ کا سودا ہے جو بھاری قیمت پر حاصل کیا ـ اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے ایک درہم خرچ کرکے بعض محتاجوں کی دعوت کرنا چاہے تو اسے شاق گزرتا ہے، جب کہ یہی اس کے لئے جنت کی قیمت تھی ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تنبیہ الغافلین (صفحہ نمبر ۸۸-۸۹ ) مصنف : نضر بن محمد ابراہیم ابوالیث السمرقندی منتخب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ