محبت کے باوجود اطاعت کیوں نہیں ہوتی ؟

میرے بخاری شریف کے استاذ محترم، ساکن بقیع ، حضرت اقدس مولانا اسلام الحق صاحب رحمہ اللہ نے بخاری شریف کے درس میں ایک قیمتی بات بتلائی تھی کہ محبت کا پتا ٹکراؤ اور مقابلے کے وقت چلتا ہے، مثال کے طور پر آپ بظاہر ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ مجھے اپنی بیوی سے جتنی محبت ہے اتنی ماں سے نہیں ہے، لیکن جب دونوں میں ٹکراؤ کی شکل پیدا ہوگی تب اصل حقیقت معلوم ہوگی کہ آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے، اسی طرح حضور صلی ﷺ کی محبت کا صحیح پتا بھی ٹکراؤ کے وقت معلوم ہوگا ، ماں باپ یا بیوی بچوں میں سے کوئی حضور صلی ﷺ کی گستاخی کر بیٹھے تو دیکھو کہ دل کی کیفیت کیا ہے؟ عرض یہ کر رہا تھا کہ میرے حضرتؒ کا ارشاد ہے کہ الحمد للہ، ہر مؤمن کے دل میں اللہ کے نبی ﷺ کی محبت ہے اور ہر چیز سے بڑھ کر ہے، نہ ماں باپ سے ایسی محبت ہوتی ہے، نہ اولاد سے، نہ بیوی سے، نہ کسی اور سے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محبت ہر چیز سے زیادہ ہے تو اطاعت کیوں نہیں ہے؟ اس لئے کہ قاعدہ ہے: تَعْصِي الرَّسُوْلَ وَأَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ هٰذَا لَعَمْرِي فِي الْفِعَالِ عَجِيْبُ لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيْعُ تو رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے اور آپ ﷺ کی محبت کا اظہار بھی کرتا ہے کہ میں عاشق رسول ہوں، یہ تو عجیب و غریب بات ہے، اگر نبی صلی السلام سے تیری محبت سچی ہوتی تو تو نبی ﷺ کی اطاعت کرتا اس لئے کہ قاعدہ ہے کہ محب ہمیشہ محبوب کی مرضی کے مطابق چلتا ہے۔ میرے حضرتؒ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ محبت کی یہ چنگاری ناجائز خواہشات نفسانی لذات، مادی تعلقات دنیوی مفادات اور آخرت سے غفلت کی راکھ میں دب گئی ہے، محبت تو ہے اور سب سے بڑھ کر ہے، مگر خواہشات اور غفلت کی راکھ میں دب گئی ہے، اسے ذرا باہر نکالو اور ذکر الہی کی ہوا دو، پھر اس کی گرمی دیکھو، راکھ کے نیچے دل کے اندر عشق نبوی کی جو چنگاری ہے وہ آگ بنے گی اور پھر بھڑکنے لگے گی ، اور جب یہ بھڑک اُٹھے گی تو پھر اس کی چمک اور مہک پورے عالم میں عام ہو جائے گی ۔ ___________📝📝___________ (کتاب : رحمۃ للعالمین ﷺ کی چمک اور مہک۔ صفحہ نمبر : ۲۸-۲۹-۳۰ مصنف : حضرت مولانامحمد سلیم صاحب دھورت) انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

🖌۔۔ یہ ایک امانت تھی __!!

🖌۔۔  یہ ایک امانت تھی __!!

 حضرت شیخ الہند کو دین کیلئے بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔ ان کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ جب ان کی وفات حکیم محمد اجمل کی کوٹھی پر ہوئی‘ غسل دینے والے نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ پر زخموں کے بڑے بڑے نشان ہیں۔ اس نے رشتہ داروں سے پوچھا انہوں نے گھر والوں سے پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ سب حیران تھے۔ اہلخانہ سے بھی اس بات کو چھپائے رکھا۔ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ اس وقت کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ ان کو شیخ الہند کی وفات کا پتہ چلا تو وہاں سے جنازہ میں شرکت کیلئے آئے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ بتائیے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ فرمانے لگے۔ یہ ایک راز تھا اور حضرت نے منع فرمایا تھا کہ میری زندگی میں تم نے کسی کو نہیں بتانا۔ اس لئے یہ امانت تھی اور میں بتا نہیں سکتا تھا۔ اب تو حضرت وفات پا گئے ہیں۔ لہٰذا اب تو میں بتا سکتا ہوں۔ وہ فرمانے لگے کہ جب ہم مالٹا میں قید تھے اس وقت حضرت کو اتنی سزا دی جاتی‘ اتنی سزا دی جاتی کہ جسم پر زخم ہو جاتے تھے اور کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ فرنگی انگارے بچھا دیتے اور حضرت کو اوپر لٹا دیتے تھے۔ جیل کے حکام کہتے کہ محمود! صرف اتنا کہہ دو کہ میں فرنگیوں کا مخالف نہیں ہوں ہم تمہیں چھوڑ دیں گے مگر حضرت فرماتے کہ نہیں میں یہ الفاظ نہیں کہہ سکتا۔ وہ ان کو بہت زیادہ تکلیف دیتے تھے۔ حضرت جب اپنی جگہ پر رات کو سونے کیلئے آتے تو سو بھی نہیں سکتے تھے۔ نیند نہ آنے کی وجہ سے تکلیف اور ادھر سے اذیتیں۔ ہم لوگ حضرت کی حالت دیکھ کر پریشان ہو جاتے۔ ہم نے ایک دن رہ کر کہا۔ حضرت! آخر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب الحیل‘‘ لکھی ہے لہٰذا کیا کوئی ایسا حیلہ ہے کہ آپ ان کی سزا سے بچ جائیں۔ حضرت نے فرمایا نہیں۔ اگلے دن حضرت کو پھر سزا دی گئی۔ جب کئی دن متواتر یہ سزا ملتی رہی تو ایک دن ایک فرنگی کھڑا ہو کر – کہنے لگا۔ تو یہ کیوں نہیں کہنا چاہتا کہ میں فرنگیوں کا مخالف نہیں ہوں۔ اس وقت حضرت نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں کہنا چاہتا کہ میں اللہ کے دفتر سے نام کٹوا کر تمہارے دفتر میں نام نہیں لکھوانا چاہتا۔ حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ آپ کو اذیتناک سزا دی گئی ہے۔ ہم حضرت کے ساتھ تین چار شاگرد تھے۔ ہم نے مل کر عرض کیا‘ حضرت! کچھ مہربانی فرمائیں۔ اب جب حضرت نے دیکھا کہ مل کر بات کی تو ان کے چہرے پر غصے کے آثار ظاہر ہوئے فرمانے لگے۔ حسین احمد! تم مجھے کیا سمجھتے ہو؟ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت بلال کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت خبیب کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت سمیہؓ کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں امام احمد بن حنبل کا کہ جن کو اتنے کوڑے مارے گئے کہ اگر ہاتھی کو بھی مارے جاتے تو وہ بھی بلبلا اٹھتا‘ میں روحانی بیٹا ہوں مجدد الف ثانی کا کہ جن کو دو سال کیلئے گوالیار کے قلعے میں قید رکھا گیا تھا۔ میں روحانی بیٹا ہوں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا جن کے ہاتھوں کو کلائیوں کے قریب سے توڑ کر بیکار بنا دیا گیا تھا۔ کیا میں ان فرنگیوں کے سامنے شکست تسلیم کر لوں۔ یہ میرے جسم سے جان تو نکال سکتے ہیں مگر دل سے ایمان نہیں نکال سکتے۔