🖌۔۔ یہ ایک امانت تھی __!!

 حضرت شیخ الہند کو دین کیلئے بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔ ان کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ جب ان کی وفات حکیم محمد اجمل کی کوٹھی پر ہوئی‘ غسل دینے والے نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ پر زخموں کے بڑے بڑے نشان ہیں۔ اس نے رشتہ داروں سے پوچھا انہوں نے گھر والوں سے پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ سب حیران تھے۔ اہلخانہ سے بھی اس بات کو چھپائے رکھا۔ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ اس وقت کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ ان کو شیخ الہند کی وفات کا پتہ چلا تو وہاں سے جنازہ میں شرکت کیلئے آئے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ بتائیے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ فرمانے لگے۔ یہ ایک راز تھا اور حضرت نے منع فرمایا تھا کہ میری زندگی میں تم نے کسی کو نہیں بتانا۔ اس لئے یہ امانت تھی اور میں بتا نہیں سکتا تھا۔ اب تو حضرت وفات پا گئے ہیں۔ لہٰذا اب تو میں بتا سکتا ہوں۔ وہ فرمانے لگے کہ جب ہم مالٹا میں قید تھے اس وقت حضرت کو اتنی سزا دی جاتی‘ اتنی سزا دی جاتی کہ جسم پر زخم ہو جاتے تھے اور کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ فرنگی انگارے بچھا دیتے اور حضرت کو اوپر لٹا دیتے تھے۔ جیل کے حکام کہتے کہ محمود! صرف اتنا کہہ دو کہ میں فرنگیوں کا مخالف نہیں ہوں ہم تمہیں چھوڑ دیں گے مگر حضرت فرماتے کہ نہیں میں یہ الفاظ نہیں کہہ سکتا۔ وہ ان کو بہت زیادہ تکلیف دیتے تھے۔ حضرت جب اپنی جگہ پر رات کو سونے کیلئے آتے تو سو بھی نہیں سکتے تھے۔ نیند نہ آنے کی وجہ سے تکلیف اور ادھر سے اذیتیں۔ ہم لوگ حضرت کی حالت دیکھ کر پریشان ہو جاتے۔ ہم نے ایک دن رہ کر کہا۔ حضرت! آخر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب الحیل‘‘ لکھی ہے لہٰذا کیا کوئی ایسا حیلہ ہے کہ آپ ان کی سزا سے بچ جائیں۔ حضرت نے فرمایا نہیں۔ اگلے دن حضرت کو پھر سزا دی گئی۔ جب کئی دن متواتر یہ سزا ملتی رہی تو ایک دن ایک فرنگی کھڑا ہو کر – کہنے لگا۔ تو یہ کیوں نہیں کہنا چاہتا کہ میں فرنگیوں کا مخالف نہیں ہوں۔ اس وقت حضرت نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں کہنا چاہتا کہ میں اللہ کے دفتر سے نام کٹوا کر تمہارے دفتر میں نام نہیں لکھوانا چاہتا۔ حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ آپ کو اذیتناک سزا دی گئی ہے۔ ہم حضرت کے ساتھ تین چار شاگرد تھے۔ ہم نے مل کر عرض کیا‘ حضرت! کچھ مہربانی فرمائیں۔ اب جب حضرت نے دیکھا کہ مل کر بات کی تو ان کے چہرے پر غصے کے آثار ظاہر ہوئے فرمانے لگے۔ حسین احمد! تم مجھے کیا سمجھتے ہو؟ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت بلال کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت خبیب کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت سمیہؓ کا‘ میں روحانی بیٹا ہوں امام احمد بن حنبل کا کہ جن کو اتنے کوڑے مارے گئے کہ اگر ہاتھی کو بھی مارے جاتے تو وہ بھی بلبلا اٹھتا‘ میں روحانی بیٹا ہوں مجدد الف ثانی کا کہ جن کو دو سال کیلئے گوالیار کے قلعے میں قید رکھا گیا تھا۔ میں روحانی بیٹا ہوں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا جن کے ہاتھوں کو کلائیوں کے قریب سے توڑ کر بیکار بنا دیا گیا تھا۔ کیا میں ان فرنگیوں کے سامنے شکست تسلیم کر لوں۔ یہ میرے جسم سے جان تو نکال سکتے ہیں مگر دل سے ایمان نہیں نکال سکتے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ہونے والے شوہر کا امتحان: ایک ایمان افروز واقعہ

ہونے والے شوہر کا امتحان: ایک ایمان افروز واقعہ

میرے بھائی نے مجھے اپنے ایک دوست سے سنا ہوا سچا واقعہ سنایا جو اپنی بہنوں کے لیے بطور نصیحت پیش کررہا ہوں. میرے ایک عزیز پیرس میں خاصے عرصے سے مقیم ہیں . برسر روز گار ہیں، مگر ابھی تک کسی وجہ سے اپنا گھر نہیں بسا سکے، ایک دن میرے پاس آئے تو گھر بسانے کا قصہ چھیڑ دیا۔ وہ کسی مناسب رشتے کی تلاش میں تھے۔ عربی کے الفاظ میں کسی ’’بنت الحلال‘‘ کی تلاش کے لیے مجھ سے بھی کہا ۔ میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، مختلف لوگ جن کی بچیاں شادی کی عمرکو پہنچ چکی ہیں، کہتے رہتے ہیں، کسی نہ کسی جگہ مناسب رشتہ دیکھ کر بات چلا دیں گے؛چنانچہ ایک جگہ میں نے بات شروع کی ۔ لڑکی کے والد مراکش کے رہنے والے ہیں اور عرصۂ دراز سے یہاں مقیم ہیں، اولاد یہیں پیدا ہوئی، لہٰذا فرنچ زبان عربی پر حاوی ہوچکی ہے۔ والد اور والدہ سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ہمیں توکوئی اعتراض نہیں رشتہ مناسب ہے، لڑکی کی عمر بھی 20,21سال ہو چکی ہے۔ وہ خود بھی سمجھدار اور پڑھی لکھی ہے، اس سے مشورہ کرکے بتاتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی گئی، ہمیں قوی یقین تھا کہ سمبندھ ضرور ہو جائے گا کیونکہ رشتہ ہم پلہ تھا۔ چنانچہ وہ دن بھی آیا کہ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لڑکا لڑکی کو دیکھ لے اور دونوں آپس میں گفتگو بھی کرلیں تاکہ بات طے ہو سکے ۔ اتفاق کی بات کہ ملاقات کے لیے ریلوے اسٹیشن کا انتخاب ہوا، چنانچہ لڑکا اور لڑکی ذرا دور ہٹ کر بیٹھ گئے۔ لڑکی کی والدہ، والد، میری اہلیہ اور میں ان کو دور سے دیکھ رہے تھے کہ دفعتاً لڑکی نے اپنے پرس سے کچھ اوراق نکالے اور لڑکے کے سامنے رکھ دیے۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ میں نے لڑکی کی والدہ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگی کہ دراصل اس کی بیٹی نے اپنے ہونے والے شوہر سے اس کی نجی زندگی کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ایک سوال نامہ مرتب کیا ہے۔ اس کے جوابات کی روشنی میں وہ اسے اپنا شریک حیات بنانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی ۔ سوالات عربی اور فرنچ دونوں زبانوں میں تھے، مگر زیادہ فرنچ زبان اختیار کی گئی تھی۔ میرا دوست اس زبان سے زیادہ واقف نہیں تھا، اس نے دور سے مجھے اشارہ کرکے اپنے پاس بلایا تاکہ میں ان سوالات کا جواب لکھنے میں اس کی مدد کر سکوں ۔ وہ سوالات تین صفحات پر مشتمل تھے۔ پہلے صفحہ پر اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات تھے، مثلاً نام، ولدیت، ایڈریس، قد، وزن، پیشہ، تعلیم، کاروبار، نوکری، گھر اپنا ہے یا پرایا، آپ کتنے گھنٹے ڈیوٹی دیتے اور کتنی تنخواہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ عام سے سوالات تھے جن کا جواب میرے دوست نے لکھ لیا تھا، مگر اصلی سوالات اگلے دو صفحات میں تھے۔ ان میں سوالات کچھ اس قسم کے تھے کہ آپ کا اسلام سے اور مذہب سے کس حد تک تعلق ہے؟ پانچوں نمازیں آپ ادا کرتے ہیں یا نہیں؟ اسلام کی راہ میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟ قرآن پاک کا کتنا حصہ زبانی یاد ہے۔ مہینے میں کتنی مرتبہ آپ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں؟ حدیث کی کون سی کتاب آپ پڑھ چکے ہیں اورکتنی احادیث آپ کو یاد ہیں؟ حقوق الزوجین کے بارے میں ایک صفحہ لکھیں سیرت کی کون سی کتاب آپ کے زیر مطالعہ ہے؟ آپ نے کسی حلقۂ درس میں کبھی شرکت کی ہے، اگر کی ہے تو کون سا عالم دین تھا، اور آپ نے اس سے کون سی کتاب پڑھی ہے؟ عامر عقاد کہہ رہا تھا: میں اس لڑکی کے سوال پڑھتا چلا جا رہا تھا اور جہانِ حیرت میں گم ہوتا جا رہا تھا کہ اس ماحول میں بھی اسلام سے اس حد تک محبت رکھنے والی بچیاں موجود ہیں۔ ایک سوال یہ بھی تھا کیا آپ اولاد کے خواہش مند ہیں؟ لڑکیاں چاہتے ہیں یا لڑکے؟ شادی کے بعد جو پہلا بچہ ہو گا اس کا نام کیا رکھیں گے؟ آپ اپنی شریک حیات میں کس قسم کی خوبیاں دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ وہ سوال نامہ کیا تھا؟ حقیقت میں اس کی زندگی اور طرز فکر کے بارے میں مکمل کھوج تھا ان سوالات کے جوابات ملنے اور پڑھنے کے بعد بلاشبہ ایک شخص کی زندگی کا عکس پوری طرح نظر آجاتا ہے. تو پھر آپ کے دوست نے ان تمام سوالوں کا صحیح جواب لکھا؟ میں نے پوچھا۔ دوست بولا . ’کیوں نہیں؟ اس نے سارے جوابات مفصل دینے کی کوشش کی۔ اچھا تو پھر یہ شادی انجام پذیر ہوئی یا نہیں؟‘‘ ’’نہیں بھائی! وہ رشتہ طے نہ ہو سکا. لڑکی ان جوابات سے مطمئن نہیں ہوئی اور اس نے اپنے والدین سے کہہ دیا کہ مجھے ایسا شوہر نہیں چاہیے جو اپنے رب کے ساتھ مخلص نہیں . جو اپنے خالق کا وفادار نہیں وہ کل کلاں میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟‘‘ اور میں سوچ رہا تھا کہ واقعتا اگر میری بہنیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کی اپنے رب سے وفاداری اور تعلق کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں تو پھر ان کی آئندہ زندگی یقینا بے حد خوشگوار گزرے گی . _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔