ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ہمیشہ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭہے ﮔﺎ __!!

ﺭﻭﺍﯾﺖ ہے ﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺻﻔﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻦ ﺭہی ﺗﮭﯽ۔ ﮐﺎﻡ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ہوﺍ۔ ﻭﮦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﮭﮍﯼ ہوﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭہا ہے۔ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ہنسنے ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : " ﺧﺎﻣﻮﺵ ! ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻟﮑﮍﯼ ﻻﺅ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮐﺮﻭ "! ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻟﮑﮍﯼ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﻭ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺍُﺱ ﺿﻌﯿﻒ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭہے ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ گے ﺳﯿﺪﮬﺎ ہو ﮔﯿﺎ ہے مینار ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﭨﯿﮍﮬﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ہے؟ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ " : ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ہے۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﺑﻨﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ہی رہتا۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ہے۔ " ﺍﻓﻮﺍﮦ ﺳﮯ ﮈﺭﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﻭﻗﺖ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺳﺪِّ ﺑﺎﺏ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ہمیشہ ﺳﯿﺪﮬﺎ رہے ﮔﺎ۔ مولانا ﺭﻭﻣﯽ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مزاح مزاح میں نصیحت

مزاح مزاح میں نصیحت

شاگرد غور سے سن رہا تھا۔ استاد نے پوچھا کہ اگر میں تمہں ایک سیب، اور ایک سیب اور ایک سیب دوں، تو تمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟ شاگرد نے بغیر کسی تامل کے جواب دیا: ۴- استاد کو لگا کہ شائد شاگرد صحیح سے سوال سمجھ نہیں پایا۔ استاد نے اِطمینان سے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔ "دیکھو اگر میں تمہیں ایک سیب، اور ایک سیب اور ایک سیب دوں تو تمہارے پاس کل کتنے سیب ہو جائیں گے؟" شاگرد سوچنے لگا، اور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا: ۴- اب استاد کچھ حیران ہوا، اور اسےغصہ بھی آٰیا، مگر اس نے دوبارہ سوال کیا۔اب کی بار شاگرد نے استاد کے چہرے پر پھیلی مایوسی دیکھتے ہوئے، کافی سوچ کر جواب دیا، اور کہا "۴ سیب"۔ دفتاً استاد کو یاد آیا کہ شاگرد کو لیچی پسند ہے، ہو سکتا ہے اسے سیب پسند نہ ہوں، اور اس وجہ سے وہ سوال پر فوکس نہ کر پا رہا ہو۔ لہٰذا استاد نے پوچھا :اچھا بتاؤ اگر میں تمہیں ایک لیچی، اور ایک لیچی اور ایک لیچی دوں تو تمہارے پاس کُل کتنی ہوں گی؟ شاگرد نے سوچ کر جواب دیا، اور سوالیہ انداز میں کہا: ۳؟؟ بالکل ٹھیک، استاد نے خوش ہو کر کہا، اور پھر پوچھا، کہ بتاؤ کہ اگر میں تمہیں ایک سیب، اور ایک سیب اور ایک سیب دوں تو تمہارے پاس کُل کتنے سیب ہوں گے؟ "۴" شاگرد نے جواب دیا۔ اب استاد کو بہت غصہ آیا، اس نے پہلے تو شاگرد کو ڈانٹا اور پھر غصے میں پوچھا: "کیسے؟ کیسے ہوں گے 4 سیب؟؟" *شاگرد نے معصومیت سے جواب دیا:::::* *"کیونکہ ایک سیب میرے بیگ میں پڑا ہوا ہے"* ۔ *لہٰذا۔۔۔۔غصہ کرنے سے بہتر ہے کہ انسان پہلے دوسروں کی رائے جان لے، ہو سکتا ہے وہ کسی اور پہلو سے معاملے کو دیکھ رہے ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی رائے درست ہو۔* منقول۔