ناظم ندوة العلماء حضرت مولانا بلال عبد الحی صاحب حسنی ندوی زید مجدہ نے دارالعلوم کے سابق مہتمم حضرت الاستاذ ڈاکٹر مولانا سعید الرحمان صاحب اعظمی ندوی رح کے حوالے سے یہ صراحت فرمائی کہ سخت جسمانی ضعف کے سبب حضرت مہتمم صاحب پچھلے ڈھائی سال سے دارالعلوم آنے سے قاصر رہے اس دوران مرشد ملت حضرت مولانا محمد رابع صاحب حسنی ندوی رح کی حسب وصیت مہتمم صاحب کو ماہانہ مشاہرہ حسب سابق فراہم ہوتا رہا اور آج حضرت مہتمم صاحب کی وفات کے بعد انکے ورثاء نے وہ رقم ذمہ داران ندوہ کو یہ کہکر سونپ دی کہ حضرت مہتمم صاحب نے یہ کہکر کہ میں ڈھائی سال سے اپنے فرائض انجام نہیں دے پارہا لہذا میں اس رقم کا مستحق نہیں اور رقم ندوے کی تعمیر وترقی پر خرچ کی جاے تقریبا چودہ لاکھ 140000 کی یہ رقم ذمہ داران ندوہ کے سپرد کرنے کی وصیت کی ہے
ڈھونڈے ہے اسکو خلق خدا شمع لیکے رات
لاکھ ڈھونڈے کوئی تو وہ ملتا نہیں کہیں
آج انکی جدائی کا زخم اور گہرا بلکہ ہرا ہوتا دکھائی دیا دل گھبرایا اور وحشت زدہ ہوگیا کہ وفاوں کے یہ چراغ رفتہ رفتہ گل ہورہے ہیں اور ہم انکے سایہ سے محرومی کے شدید احساس کے ساتھ جینے کےلیے مجبور ہیں
اولئک آبائی فجئنا بمثلھم
آخر پر حضرت ناظم صاحب کی اس نوید مسرت نے دل کی اجاڑ بستی کو سنبھالا دیا کہ اب ان شاءاللہ اسی رقم سے زہر تعمیر رواق رابع میں حضرت مہتمم صاحب سے منسوب سعید ہال تعمیر
کیا جاے گا
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
سجاد حسین ندوی
---------Islamic Tube Pro---------
منقول -
انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ-