​​ایک قدیم سندھی عالم کا کلمۂ حکمت :

اِمام ابونصر فتح بن عبداللہ سندھیؒ دُوسری صدی ہجری کے اُن علماء میں سے ہیں جو سندھی نژاد تھے، اور سندھ میں مسلمانوں کے داخلے کے بعد مشرف باسلام ہوئے تھے ، اور مسلمان ہونے کے بعد تفسیر،حدیث،فقہ اور کلام کے مُسلَّم عالم مانے گئے، علامہ سمعانیؒ نے ان کا یہ واقعہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے: عبداللہ بن حسین کہتے ہیں کہ ایک روز ہم ابونصر سندھی کے ساتھ دُھول اور کیچڑ میں اَٹی ہوئی زمین پر چلے جا رہے تھے، اُن کے بہت سے معتقدین بھی ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک عرب شہزادہ مدہوشی کی حالت میں زمین پر خاک اور کیچڑ میں لت پت پڑا ہے، اس نے ہماری طرف نظر اُٹھا کر دیکھا تو ابونصرؒ نے منہ قریب کر کے سونگھا، اس کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی تھی ـ شہزادہ نے ابونصرؒ سےکہا: "او غلام! میں جس حالت میں پڑا ہوں تم دیکھ رہے ہو، لیکن تم ہو کہ اطمینان سے چلے جا رہے ہو،اور اتنے سارے لوگ تمہارے پیچھے پیچھے ہیں"؟ ابونصرؒ نے بے باکی سے جواب دیا: " شہزادے! جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ بات یہ ہے کہ میں نے تمہارا آباء و اجداد ( صحابہ ؓ و تابعین ؒ ) کی پیروی شروع کردی ہے،اور تم میرے آباء و اجداد ( کافروں کے) نقشِ قدم پر چل پڑے ہو ـ" (الأنساب للسمعانیؒ ورق: ۳۱۳ ومعجم البلدان ج: ۳ ص: ۲۶۷، ماخوذ اَز فقہائے ہند، مرتبہ: محمد اسحاق بھٹی جلد: ۱ ص: ۸۰ و ۸۱) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تراشے 📔 (صفحہ نمبر : ۵۷،۵۸ ) تالیف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

بچوں کی تربیت کا طریقہ (تربیت کا دستور العمل)

بچوں کی تربیت کا طریقہ (تربیت کا دستور العمل)

(۱) اللہ تعالیٰ جب کسی کو اولاد دے اور وہ سیانی ہونے لگے تو سب سے پہلے اس کو کلمہ توحید سکھلائے ۔ پھر اس کو ضروری آداب سکھلائے۔ (۲) جب سامنے آئے سلام کرے۔ (۳) جھوٹ بولنے سے اس کو نفرت دلائے ۔ (۴) پردہ اور حیاء کی اس کو تعلیم ( تاکید ) کرے۔ (۵) لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک جگہ نہ کھیلنے دے۔ اگر نا محرم ہیں تو آئندہ کے مفاسد کی روک تھام ہے اور اگر وہ محرم ہیں تو لڑکیوں میں بے حیائی پیدا ہونے کا اور لڑکوں میں نقصان عقل کا احتمال ہے۔ (۶) خود بھی بچوں کے سامنے کوئی نا مناسب کام یا بے حیائی کا کام نہ کرے۔ گو بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ بول بھی نہ سکتا ہو۔ کیونکہ اس فعل کا عکس اس کے دماغ میں نقش ہو جاتا ہے۔ پھر اس کا اثر بڑے ہو جانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ (۷) جنسی دل لگی کی عادت اس میں نہ پیدا ہونے دے، کیونکہ اس سے بے باکی پیدا ہوتی ہے۔ (۸) اس کا اہتمام رکھیں کہ سیانے بچوں میں دوستی نہ پیدا ہونے پائے کیونکہ اس سے مفاسد اور خرابیاں بے شمار ہوں گی اور ان کے با ہم کھیلنے کی کوئی مصلحت ہو تو اس کھیل کے وقت خود حاضر رہیں بعد میں میل جول نہ ہونے دیں۔ (۹) اس کی عادت ڈالے کہ وہ چھپ کر کوئی کام نہ کریں ۔ چھپ کر بچہ وہی کام کرے گا جس کو بُرا سمجھے گا۔ تو گویا شروع ہی سے وہ برا کام کرنے کا عادی ہو جائے گا۔ (۱۰) اس کی بھی عادت ڈالیں کہ سخن پروری (خواہ مخواہ کی طرفداری) کبھی نہ کرے۔ حق واضح ہو جانے کے بعد گو اپنے سے کم درجہ کا آدمی اس پر مطلع کرے لیکن فوراً اس کی بات مانے اور ہر بات میں اس کو تواضع و خاکساری کی عادت ڈالے۔(اصلاح انقلاب ص ۲۰۴) اس کی یہ عادت ڈالے کہ اگر اس سے غلطی ہو جائے تو اس کا اقرار کر لیا کرے اور اگر وہ غلطی متعدی ہو (یعنی کسی دوسرے سے اس کا تعلق ہو ) تو صاحب حق سے معاف کروایا جائے۔ اس کی عادت ڈالنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اس میں اس کے دین کی سلامتی اور دنیا کی راحت و عزت ہے اور اس میں پیچھے ہٹنا تکبر اور ہمیشہ کیلئے ذلت و نفرت کا سبب بنتا ہے۔(اصلاح انقلاب ص ۲۰۴)۔ (کتاب : تربیت اولاد۔ صفحہ نمبر: ۷۰ / ۷۱۔ مصنف : حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)