مسئلہ فلسطین اور ہماری ذمہ داریاں

مسلمانوں کی دینی یا دنیوی پریشانیوں پر اہلِ علم کا اضطراب: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف؛ حیات المسلمین کے شروع میں ’’تسہیلِ مقدمہ‘‘ کے عنوان سے مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک وقیع مقدمہ شامل ہے، اس میں حضرت مفتی صاحب ؒ نے عالمِ اسلام کے اور مسلمانوں کے زوال و انحطاط حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بے چینی و اضطراب اورفکرمندی سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: [’’جہاں کہیں مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی یا کسی پریشانی کی خبر آتی، وہ غم میں اس طرح گھلنے لگتے تھے جیسے کسی شفیق باپ کی صلبی اولاد پر کوئی مصیبت ائی ہو۔؎ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اس سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس پرفتن دور میں ایسے جذبہ رکھنے والے کو چین و ارام کہاں؟ خود احقر نے بارہا دیکھا کہ جب کوئی فتنہ مسلمانوں میں چلا جس سے ان کی دینی یا دنیاوی تباہی کا خطرہ تھا، تو حضرت کا نظامِ صحت مختل اور قوی میں ضعف و اضمحلال نظر آنے لگتا تھا۔ ایک ایسے ہی فتنہ کے زمانے میں خود فرمایا کہ: ’’ مسلمانوں کی موجودہ حالت اور اس کے نتائج کا تصور اگر کھانے سے پہلے آ جاتا ہے تو بھوک اڑ جاتی ہے اور سونے سے پہلے آ جاتا ہے تو نیند اڑ جاتی ہے۔‘‘] (بحوالہ: حیات المسلمین،ص۷،مطبوعہ مکتبۃ المیزان) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علم کی حقیقت نصیب ہوئی ان کا ہمیشہ یہی طرزِ عمل رہا ہے کہ وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے اور اس کیلئے ہر لحاظ سے فکرمند رہتے ہیں۔اکابر علمائے کرام میں اور بزرگانِ دین میں اس کی دسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔ اسی بات کے تناظر میں ہمیں آج ہم مسئلۂ فلسطین کو سامنے رکھ کر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ اس اہم ترین مسئلے سے متعلق ہماری فکرمندی اور اضطراب کس درجے کا ہے؟ جتنا کچھ ہم کر سکتے ہیں، کیا وہ ہم کررہے ہیں؟ کیا ہم اہلِ فلسطین کیلئے اسی طرح دعائیں مانگ رہے ہیں جس طرح اگر خدانخواستہ ہماری اپنی اولاد، والدین ، بہن بھائی کسی مشکل میں گرفتار ہوتے تو ہم ان کیلئے مانگتے........! دعا مومن کا ہتھیار ہے،اس ہتھیار کو استعمال کیجیے اور دردِ دل کے ساتھ، تضرع و عاجزی کے ساتھ اپنے مظلوم و مقہور بھائیوں کیلئے سراپا دعا بن جائیے۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے اور اہلِ فلسطین کو ظلم و جبر سے خلاصی نصیب فرمائے۔ آمین۔ --------تحریر ابومعاذ راشد حیسن---------- منقول۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

رشتہ ڈھونڈنے کی ظالمانہ رسم

رشتہ ڈھونڈنے کی ظالمانہ رسم

ہمارے معاشرے میں اپنے بیٹے یا بھائی کے لئے جب رشتہ ڈھونڈا جاتا ہے تو لڑکی کی خوبصورتی ، لڑکی کی شرافت ، لڑکی کے کام کاج ، لڑکی کا رہن سہن ، لڑکی کی تعلیم ، لڑکی کا خاندان ، لڑکی کا جہیز ، لڑکی کا جائیداد میں حصہ لڑکی کی پیدائش سے اسکی جوانی تک کی ہسٹری جس کی گواہی بھی شرط اور لڑکے کے لئے صرف اسکی نوکری ہونا ہی بہت ہے نہ شکل و صورت اہم نہ کردار اہم ، نہ چال چلن اہم ، نہ اسکے دوست احباب اہم ، نہ اسکا گھر والوں سے رابطہ تعلق اہم ، نہ اسکے عشق معاشقے اہم ، بس ایک نوکری اسکے 100 عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی کی بیٹی بہن کے گھر جب دیکھنے جاتے ہیں تو پہلے کہلوا بھیجتے ہیں کہ لڑکی دیکھنے آرہے ہیں وہاں لڑکی کے دل پر کیا گزرتی ہے جو دل و دماغ میں مرتی تڑپتی دعائیں مانگتی سوچتی پاگل ہوتی ہے کیا ہوگا ؟ میں پسند آوں گی یا نہیں ؟ پسند نہ آئی تو لوگ کیا کہیں گے ؟ پسند آ بھی گئی تو وہ لوگ کیسے ہوں گے ؟ وہ لڑکا کیسا ہو گا جیسے ہزاروں سوالات۔ اور اوپر سے جہالت یہ کہ وہ لوگ دوسروں کی بہن بیٹیوں کو بلاتے ہیں انکو بھی چلنے کے لئے کہا جاتا ہے ، جیسے منڈی میں بھیڑ بکریوں کو کچھ قدم چلا کر پسند کیا جاتا ہے ، اسکے کمرے کو جا کر دیکھتے ہیں انکے گھر کھا پی کر پھر واپس اپنے گھر پہنچ کر ایک میسج بھیج دیتے ہیں معاف کرنا ہمیں لڑکی پسند نہیں !! ان جیسے لوگوں کو تیل کی گرم کڑھائی میں ڈال دینا چاہئے ظالمو !!! ایک نہیں 10 بار رشتہ نہ کرو مگر وہاں لڑکی دیکھنے کسی بہانے سے بھی جایا جا سکتا ہے جب تک پسند نہ آئے رشتے کی بات نہ کیا کرو وہ لڑکی ہے فرشتہ نہیں ؟ پری نہیں؟ ایک سادہ سی معصوم سی انسان ہے ، جس کے کچھ جزبات ہیں ، کچھ خواب ہیں ، اسکی بھی کوئی عزت نفس ہے۔ خدارا اپنے چاند سے بیٹوں کے لئے پریاں ضرور ڈھونڈیں مگر کسی کی بہن بیٹی پر عیب لگا کر نہیں کسی کی آہ لے کر نہیں کسی کی بد دعاء لے کر نہیں ! ___________📝📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اِسلامک ٹیوب ایپ