بھوٹان کے گاسا ضلع میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کے بعد بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں پر سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ بھارت سرکار نے مغربی بنگال اور آسام کے نشیبی علاقوں کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وارننگ ہے کہ بھوٹان سے آنے والی سنکوش ندی کی سطح اچانک بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
جھیل کہاں پھٹی؟
رپورٹ کے مطابق جمعرات کی شام بھوٹان کے گاسا ضلع میں لُنگو میں واقع وکیلا پہاڑ کے نیچے کی شنتافو جھیل اچانک پھٹ گئی۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے بھوٹان میں ندی کنارے سائرن بجا کر لوگوں کو خبردار کیا گیا اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ شنتافو جھیل بھوٹان کی 17 سب سے زیادہ خطرناک گلیشیائی جھیلوں میں شامل ہے۔
بھارت میں خطرہ کیوں ہے؟
شنتافو جھیل بھوٹان کے پُناتسانگچھو ندی طاس میں آتی ہے۔
یہی ندی سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوتے ہی سنکوش ندی کہلاتی ہے۔
بھارتی ایڈوائزری کے مطابق پانی کا بھاری سیلاب 6 سے 8 گھنٹے کے اندر بھارت-بھوٹان سرحد پر پہنچ سکتا ہے۔
پانی کی سطح میں اچانک اچھال سے نشیبی علاقوں کی بستیاں، کھیت، مویشی، پل اور سڑکیں بہہ جانے کا خطرہ ہے۔
کہاں کہاں ہائی الرٹ؟
آسام: دھبری ضلع
شمالی بنگال: دارجلنگ، علی پور دوار، جلپائی گوڑی اور کوچ بہار
علاقہ خالی کرنے کی اپیل
مغربی بنگال کے وزیرِ جنگلات منوج کمار اورانو نے فیس بک پر ویڈیو پیغام جاری کر کے سنکوش ندی کنارے رہنے والوں سے فوری طور پر گھر خالی کر کے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کمارگرام کے قریب اگلے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں پانی کا شدید بہاؤ پہنچ سکتا ہے۔
بی جے پی ایم پی راجو بشٹ نے ایکس پر لکھا کہ جھیل کا پانی موفو ندی کے راستے سنکوش ندی کی طرف بڑھ رہا ہے، اس لیے ندی اور اس کی معاون ندیوں کے کیچمنٹ ایریا میں رہنے والے لوگ جان بچانے کے لیے فوراً محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔
این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف مستعد
کوچ بہار کے طوفان گنج اور بکسی رہاٹ میں، آسام سرحد کے قریب، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات ہیں۔
لاؤڈ اسپیکروں سے ندی کنارے کے گاؤں میں منادی کرائی جا رہی ہے، تاکہ لوگ وقت رہتے اونچی جگہوں پر چلے جائیں۔
دارجلنگ کی پہاڑیوں سے لے کر علی پور دوار، جلپائی گوڑی اور دھبری تک افسران 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔