عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ "(بُخاری شریف ۶۲۳۱)
ترجمہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، اور گزرنے والا بیٹھے ہوؤں کو سلام کرے، اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں“ (تھوڑے تھوڑے ہونے کی وجہ سے ادنی ہیں، پس وہ زیادہ کو سلام کریں)(تحفۃ القاری)
فاعتبروا يا اولي الابصار
سبق ہے میرا جسم میری مرضی والوں کے لئے
مرضی بھی اسی کی تھی اور جسم بھی اسی کا تھا مگر
سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے مہینوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ...