بینک کے سودی پیسہ کے مصرف کی تفصیل؟
سود لینا، سود دینا، سود کی گواہی دینا باعث لعنت ہے
"لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء"
لیکن اپنی جائز کمائی بغرض حفاظت اگر کسی شخص نے بینک میں رکھی تو اس پر ملنے والی سود کی رقم کو چھوڑا نہ جائے، لینے کے بعد اس کے مصرف میں اس کو صرف کرنا واجب ہے، اور اس کے مصارف تین ہیں : (۱) غیر واجبی ٹیکس میں دیدیا جائے ، (۲) بلا نیت ثواب فقراء مسلمین پر تقسیم کر دیا جائے، (۳) رفاہی کاموں میں خرچ کر دیا جائے لیکن ان مصارف ثلاثہ میں سے پہلے دو مصارف متفق علیہ ہیں اور تیسرا مصرف مختلف فیہ ہے اور متفق علیہ پر عمل کرنا اولی ہے مختلف فیہ سے ۔
(کتاب: حبیب الفتاویٰ/ج: ۵/ص: ۱۵۸)