میری ناقص رائے میں!؟
٭٭٭
حسنِ اتفاق ہے کہ آج پے بہ پے دو نہا...
Ummah Post
18 June, 2025

میری ناقص رائے میں!؟

٭٭٭

حسنِ اتفاق ہے کہ آج پے بہ پے دو نہایت قابلِ احترام اہلِ علم کی تحریروں میں بطورِ انکسار یہ مشہور جملہ نظر سے گزرا:

’’میری ناقص رائے میں۔‘‘

بندۂ ناچیز کی رائے میں یہ تعبیر کچھ موزوں نہیں۔

سوچیے، جب آپ خود اپنی بات کو ناقص قرار دے رہے ہیں تو پھر اس کے بیان کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

اور کوئی سامع یا قاری اسے سنجیدگی سے کیوں لے گا؟

یاد رہے کہ ’’ناقص‘‘ کے معنی ہی عیب دار، ناپختہ، خراب اور کم تر کے ہیں۔ سو جس بات کو آپ دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہوں، اسے ازخود معیوب کہنا (اگرچہ مراد یہ نہ ہو) مناسب تو نہیں۔

انکسار کے اظہار کے لیے کہیں زیادہ مناسب ہوگا کہ یوں کہا جائے:

’’میری عاجزانہ رائے میں‘‘

بلکہ زیادہ خوبصورتی اس میں ہے کہ نسبت رائے کی طرف نہیں، اپنی ذات کی طرف کی جائے، جیسے:

’’مجھ ناچیز کی رائے میں۔‘‘

٭

Share this article
​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا
مضامین

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

ایک حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے... فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے پچھلی اُمتوں کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا... کہ ایک شخص تھا جس نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا... بڑے بڑے گناہ کئے تھے... بڑی خراب زندگی گزاری تھی... اور جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت...