https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/9403_2026-06-05_islamictube.webp

₹3,000 کروڑ کی کمپنی کا ₹15 لاکھ کروڑ کا کاغذی گھوٹالہ

₹3,000 کروڑ کی کمپنی اور ₹15 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ: راجیش ایکسپورٹس کی چالاک اسکیم بے نقاب، SEBI کا بڑا ایکشن بنگلورو: مارکیٹ ریگولیٹر سیبی (SEBI) نے جون 2026 میں ایک بڑا حکم جاری کرتے ہوئے 'راجیش ایکسپورٹس' کے سی ایم ڈی راجیش مہتا پر اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عام سرمایہ کار حیران ہیں کہ محض ₹3,000 کروڑ کی مارکیٹ ویلیو والی کمپنی نے ₹15 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ کیسے کیا؟ دراصل، یہ بینکوں سے پیسے لے کر بھاگنے کا معاملہ نہیں بلکہ اکاؤنٹنگ فراڈ (کاغذی ہیرا پھیری) کا معاملہ ہے۔ یہ اسکیم کیسے کام کرتی تھی؟ کمپنی نے 2021 سے 2025 کے درمیان اپنی دستاویزات میں ₹2.5 لاکھ کروڑ سے ₹3 لاکھ کروڑ تک کا سالانہ ٹرن اوور (فروخت) دکھایا، جو کہ پانچ سالوں میں ₹15 لاکھ کروڑ سے زیادہ بنتا ہے۔ سیبی کی تحقیقات کے مطابق، اس فروخت کا 99.8 فیصد حصہ حقیقت میں تھا ہی نہیں، بلکہ اسے صرف کاغذ پر درج ذیل 3 طریقوں سے بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا تھا: سرکلر ٹریڈنگ (Circular Trading): سونے کی ایک ہی کھیپ یا رسید کو اپنی ہی ڈمی اور فرضی کمپنیوں کے درمیان گھما کر فرضی فروخت دکھائی گئی۔ شیل کمپنیوں کا نیٹ ورک: سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ میں قائم غیر ملکی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے کاروبار کا دعویٰ کیا گیا۔ جب سیبی نے ان کے بینک کھاتوں کا ڈیٹا مانگا، تو کمپنی نے دینے سے انکار کر دیا۔ افریقی کانوں میں فرضی سرمایہ کاری: 2023 میں افریقہ کی سونے کی کانوں میں ₹1,035 کروڑ کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا، جس کا کھاتوں میں کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ آڈیٹر پر بھی گرا چابک: سیبی نے نیشنل فنانشل رپورٹنگ اتھارٹی (NFRA) کو کمپنی کے آڈیٹر 'بی ایس ڈی اینڈ کمپنی' (BSD & Co) کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا ہے، جنہوں نے برسوں سے ان فرضی اعداد و شمار پر آنکھیں بند کر کے دستخط کیے۔ دوسری طرف، راجیش ایکسپورٹس نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔