https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/9519_2026-06-08_islamictube.jpg

مشرقِ وسطیٰ میں مہا جنگ چھڑ گئی! ایران اور حزب اللہ کا اسرائیل پر میزائل و ڈرون حملہ، جواب میں تہران پر ہولناک بمباری

مشرقِ وسطیٰ میں مہا جنگ کا آغاز: ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فضائی معرکہ، تہران سمیت کئی شہروں پر بمباری، نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی 'نو اٹیک' ہدایت کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا بین الاقوامی سکیورٹی اینڈ ڈیفنس ڈیسک: خصوصی لائیو رپورٹ پیر، 8 جون 2026 مشرقِ وسطیٰ کا آتش فشاں بالآخر پھٹ چکا ہے اور دنیا ایک بار پھر عالمی جنگ کے ہولناک دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا، ہولناک اور براہِ راست فوجی تصادم شروع ہو گیا ہے۔ لبنان کے محاذ پر جاری شدید کشیدگی اور صیہونی افواج کی جانب سے بیروت پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری کے جواب میں ایران اور حزب اللہ نے مشترکہ طور پر اسرائیل پر زمین، فضا اور سمندر سے دباؤ بڑھاتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی تھی۔ اس حملے کے بعد، تمام تر بین الاقوامی سفارتی دباؤ اور خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ترین وارننگ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت متعدد شہروں پر جنگی طیاروں سے بمباری کر کے خطے میں "مہا جنگ" کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سنسنی خیز عسکری کارروائی کے بعد پوری دنیا کی معیشت، تیل کی سپلائی اور سفارتی تعلقات شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیے جانے والے ان ہولناک حملوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ 1. جنگ کا پسِ منظر: بیروت میں صیہونی بربریت اور فاسفورس بموں کا استعمال اس تازہ ترین اور ہولناک تصادم کی بنیاد چند روز قبل اس وقت رکھی گئی جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو زمین ہستی سے مٹانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اب تک کے سب سے شدید اور مہلک ترین فضائی حملے شروع کیے۔ سرخ لکیروں کی پامالی اور ممنوعہ ہتھیار ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر ملٹری ایڈوائزر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق چیف محسن رضائی نے تہران سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بیروت کے گنجان آباد رہائشی علاقوں کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے لیے بین الاقوامی طور پر ممنوعہ سفید فاسفورس بموں (White Phosphorus Bombs) اور دیگر مہلک کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ محسن رضائی نے سخت لہجے میں کہا: "ہم نے تل ابیب اور عالمی برادری کو بارہا خبردار کیا تھا کہ لبنان اور بیروت پر ہماری سرخ لکیر (Red Line) ہیں۔ لیکن صیہونی مافیا نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے بیروت میں معصوم شہریوں کا قتلِ عام کیا۔ ایران اب اس قسم کی ننگی جارحیت کو مزید خاموشی سے برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم نے لبنانی بھائیوں کی حمایت اور اپنے دفاع میں یہ جوابی کارروائی کی ہے۔" 2. اسرائیل پر دو طرفہ حملہ: ایرانی بیلسٹک میزائل اور حزب اللہ کے خودکش ڈرونز بیروت پر صیہونی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے گزشتہ رات ایران اور حزب اللہ نے ایک انتہائی مربوط اور جدید ترین عسکری حکمتِ عملی کے تحت اسرائیل پر بیک وقت دو طرفہ (Double-Pronged) حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام بھی چند لمحوں کے لیے مفلوج ہو کر رہ گیا۔ سائرن کی آوازیں اور عوامی خوف و ہراس جیسے ہی ایرانی حدود اور جنوبی لبنان سے سیکڑوں فضائی اہداف اسرائیلی آسمان کی طرف بڑھے، تل ابیب، ہائفا، مقبوضہ یروشلم اور شمالی اسرائیل کے تمام شہر ہنگامی سائرنوں (Siren Blairs) کی بھیانک آوازوں سے گونج اٹھے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے ملک بھر میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے لاکھوں شہریوں کو فوری طور پر زیرِ زمین بنکروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔ آسمان پر دھماکوں اور میزائلوں کی روشنی دیکھ کر اسرائیلی عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملے کی تکنیکی تفصیلات: ایران کے بیلسٹک میزائل: ایرانی سٹریٹجک فورسز نے اسرائیل کے فوجی اڈوں بالخصوص شمالی اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے چار انتہائی تباہ کن بیلسٹک میزائل داغے۔ ان میزائلوں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ انہوں نے سیکنڈوں میں دوری طے کی۔ حزب اللہ کے خودکش ڈرونز: اسی وقت جنوبی لبنان سے حزب اللہ نے سینکڑوں کی تعداد میں کمیکازی (Kamikaze) خودکش ڈرونز فضا میں چھوڑ دیے۔ ان ڈرونز کا مقصد اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم (Iron Dome and Arrow System) کو مصروف رکھنا تھا تاکہ ایرانی میزائل اپنے اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنا سکیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ایئر ڈیفنس ایکٹیویٹ تھا اور کئی خطرات کو ناکام بنایا گیا، لیکن نقصانات کی اصل تفصیلات کو سنسرشپ کے تحت چھپایا جا رہا ہے۔ 3. سفارتی سنسنی خیزی: نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو سائیڈ لائن کر دیا اس جنگ کا سب سے حیران کن اور سفارتی دنیا کو ہلا دینے والا پہلو واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پیدا ہونے والی شدید دراڑ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو پچھلے کچھ ہفتوں سے ایران کے ساتھ ایک "حتمی امن اور جوہری معاہدے" (Final Peace and Nuclear Deal) کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، وہ اس محاذ آرائی سے شدید غصے میں ہیں۔ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو ہنگامی کال اور 'نو اٹیک' کی ہدایت ایران اور حزب اللہ کے حملوں کے فوراً بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے براہِ راست اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون ملا دیا۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو پر واضح الفاظ میں دباؤ ڈالا کہ وہ اس معاملے کو یہیں روک دیں اور ایران پر کسی بھی قسم کا جوابی حملہ کرنے سے باز رہیں۔ ٹرمپ کا موقف تھا کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو امریکہ اور ایران کے درمیان مہینوں کی محنت سے تیار ہونے والا امن معاہدہ ہمیشہ کے لیے ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔ ٹرمپ نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں ایران کو بھی سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، "بہت ہو چکا! اب ایران کو اپنے میزائل داغنے کا سلسلہ بند کر کے فوری طور پر میز پر واپس آنا چاہیے کیونکہ ہم معاہدے کے بالکل قریب ہیں۔" نیتن یاہو کا سرکشی اور ٹرمپ کی ہدایت کو مسترد کرنا تاہم، بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر کی اس التجا اور ہدایت کو یکسر نظر انداز کر دیا اور ٹرمپ کو مکمل طور پر سائیڈ لائن (Sideline) کر دیا۔ نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے سخت گیر وزراء کا ماننا ہے کہ یہ ایران کے جوہری اور فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا "سنہری موقع" ہے، اس لیے وہ امریکی امن ایجنڈے کے لیے اسرائیل کی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نیتن یاہو کے اس رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ صیہونی ریاست اب اپنے سب سے بڑے سرپرست امریکہ کے کنٹرول سے بھی باہر نکل چکی ہے۔ 4. اسرائیل کا ہولناک جوابی حملہ: عراقی فضا کا استعمال اور تہران پر بمباری امریکی صدر کے فون کو منقطع کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد، نیتن یاہو کے حکم پر اسرائیلی فضائیہ (IAF) کے درجنوں ایف-35 (F-35) اسٹیلتھ جنگی طیاروں نے ایک انتہائی خطرناک اور جارحانہ آپریشن شروع کر دیا۔ عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور تہران پر حملہ دفاعی ماہرین اور تصدیق شدہ فوجی اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عراقی فضائی حدود (Iraqi Airspace) کا استعمال کیا۔ اسرائیلی طیارے بغیر کسی اجازت کے عراقی فضا سے گزرے اور وہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسمارٹ میزائل داغنے کے بجائے، جسمانی طور پر (Physically) ایران کی فضائی حدود کے اندر داخل ہو گئے۔ اسرائیلی طیاروں نے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک کے کئی اہم اسٹریٹجک شہروں پر اندھا دھند بمباری کی۔ تہران کی فضا دھماکوں کی آوازوں اور ایرانی اینٹی ائیر کرافٹ گنز کی فائرنگ سے گونج اٹھی۔ آئی ڈی ایف نے فخریہ انداز میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران کے اندر نائٹ آپریشن کے دوران متعدد فوجی اہداف، پاسدارانِ انقلاب کے مراکز اور میزائل لانچنگ سائٹس کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا ہنگامی اقدام: مغربی فضائی حدود کی بندش اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت اور مستقبل میں مزید بمباری کے خطرے کے پیشِ نظر، ایرانی سول ایوی ایشن اور عسکری کمانڈ نے فوری طور پر ایک ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے ایران کی پوری مغربی فضائی حدود (Western Airspace) کو تمام تر تجارتی اور سویلین پروازوں کے لیے اگلے حکمِ ثانی تک مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ایرانی ائیر ڈیفنس فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور کسی بھی دوسرے مشکوک طیارے کو دیکھتے ہی گرا دینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ 5. مستقبل کا منظر نامہ: تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ مشرقِ وسطیٰ کے اس تازہ ترین معرکے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب یہ جنگ کسی ایک ملک یا تنظیم تک محدود نہیں رہی۔ ایران کے محسن رضائی نے واضح الفاظ میں وارننگ دے دی ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان یا ایران پر دوبارہ حملے کی حماقت کی، تو اگلا ایرانی حملہ اتنا شدید ہوگا کہ اسرائیل اسے برداشت نہیں کر پائے گا۔ دوسری طرف اسرائیل اپنے وجود کی جنگ کا نام دے کر پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ سب سے بڑا نقصان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو پہنچا ہے، جن کا "ڈیل میکر" (Deal Maker) کا امیج نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پامال ہو چکا ہے۔ اگر روس، چین اور دیگر خلیجی ممالک اس جنگ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کود پڑتے ہیں، تو دنیا کو تیل کے شدید ترین بحران اور تیسری جنگِ عظیم کی ہولناکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔