https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/6648_2026-06-08_islamictube.jpg

فلپائن میں 7.8 شدت کا قیامت خیز زلزلہ! عمارتیں ملبے کا ڈھیر، پورے ایشیا میں سونامی کا ہائی الرٹ جاری

ایشیا میں قیامت خیز زلزلہ: فلپائن میں 7.8 شدت کی ہولناک لرزش، متعدد عمارتیں زمین بوس، جاپان اور انڈونیشیا سمیت پورے خطے میں سونامی کا ہائی الرٹ، لاکھوں افراد کا اونچی جگہوں کی طرف انخلاء قدرتی آفات اور عالمی سکیورٹی ڈیسک: ہنگامی لائیو رپورٹ پیر، 8 جون 2026 جنوب مشرقی ایشیا اور بحرِ الکاہل (Pacific) کا خطہ اس وقت ایک انتہائی ہولناک اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ پیر کی صبح فلپائن کا جنوبی جزیرہ منڈاناؤ (Mindanao) ایک ایسے شدید اور طاقتور زلزلے سے لرز اٹھا جس نے چند سیکنڈوں میں ہنستی کھیلتی بستیوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ زلزلے کی شدت اتنی ہولناک تھی کہ اس کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی پورے ایشیا کے ساحلی ممالک میں کھلبلی مچ گئی اور بحرِ الکاہل کے سونامی وارننگ سینٹرز نے فوری طور پر فلپائن، انڈونیشیا، تائیوان اور جاپان سمیت کئی ممالک کے لیے خطرناک سونامی لہروں کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مختلف عالمی سائنسی اداروں اور سیسمولوجیکل اتھارٹیز کی جانب سے تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق، اس تباہ کن زلزلے کے بعد سمندر کی سطح میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، اور لاکھوں ساحلی رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر پہاڑی اور اونچے مقامات کی طرف منتقل ہونے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ 1. زلزلے کے اسکیل اور وقت کی تصدیق شدہ سائنسی تفصیلات ریاستہائے متحدہ کے جیولوجیکل سروے (USGS) اور بین الاقوامی زلزلہ پیما مراکز کے مطابق، یہ زلزلہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق ٹھیک صبح 7:40 بجے (اتوار کی رات 23:40 گرین وچ ٹائم) پر آیا۔ زلزلے کی شدت کا حتمی تخمینہ امریکی قومی سونامی وارننگ سینٹر نے ابتدائی طور پر اس زلزلے کی شدت کا تخمینہ 8.2 لگایا تھا، جو کہ ایک انتہائی تباہ کن زلزلہ مانا جاتا ہے۔ تاہم، بعد میں سائنسی ڈیٹا کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد اس کی حتمی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے۔ 7.8 شدت کا زلزلہ بھی اپنے اندر اتنی توانائی رکھتا ہے کہ وہ بڑے شہروں کو سیکنڈوں میں ملیا میٹ کر دے۔ زلزلے کا مرکز فلپائن کا جنوبی جزیرہ منڈاناؤ تھا، جو کہ زلزلوں کے لحاظ سے دنیا کے خطرناک ترین زون 'رنگ آف فائر' (Ring of Fire) پر واقع ہے۔ آفٹر شاکس (Aftershocks) کا لامتناہی سلسلہ فلپائن کے سرکاری ادارے 'فلپائنی انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی' (PHIVOLCS) کے مطابق، زلزلے کے پہلے بڑے جھٹکے کے بعد ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک مسلسل اور شدید ترین آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ ان آفٹر شاکس کی وجہ سے وہ عمارتیں بھی گرنے کے دہانے پر پہنچ گئیں جو پہلے جھٹکے میں جزوی طور پر بچ گئی تھیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 2. منڈاناؤ اور جنرل سانتوس سٹی میں تباہی کے لائیو مناظر زلزلے کے فوراً بعد فلپائن کے سوشل میڈیا اور مقامی ٹی وی چینلز پر تباہی کے ایسے دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے جنہیں دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ تین منزلہ عمارت کا زمین بوس ہونا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصدیق شدہ اور ہولناک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ منڈاناؤ کے گنجان آباد شہر جنرل سانتوس (General Santos City) میں ایک معروف 'جولیبی ریسٹورنٹ' (Jollibee Restaurant) پر مشتمل تین منزلہ پوری عمارت سیکنڈوں کے اندر تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ عمارت گرتے ہی چاروں طرف دھول کے بادل اور ملبے کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، اور وہاں موجود تماشائی اور راہگیر اپنی جانیں بچانے کے لیے چیخ و پکار کرتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ دیگر علاقوں سے آنے والی تصویروں میں شہروں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ نظر آ رہا ہے۔ بڑی بڑی تجارتی عمارتوں کی شیشے کی کھڑکیاں ٹوٹ کر سڑکوں پر گر چکی ہیں، مکانات کی چھتیں اڑ گئی ہیں، سڑکوں کے بیچوں بیچ گہرے شگاف پڑ چکے ہیں اور بجلی و مواصلات کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ چشم دید گواہ کا بیان: سڑکیں اور درخت جھولنے لگے جنرل سانتوس سٹی میں واقع 'ڈیڈیانگاس یونیورسٹی کے نوٹری ڈیم' کے لیے خدمات انجام دینے والی ایک کیتھولک راہبہ میری این بلانکو روڈی نے الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے اس قیامت خیز منظر کا احوال کچھ یوں بیان کیا: "میں صبح کے وقت کالج کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک زمین اس طرح ہلنے لگی جیسے کوئی گاڑی کو زور زور سے جھٹکے دے رہا ہو۔ سڑک پر چلنے والی کاریں بے ترتیب ہو کر ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی تھیں، وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وہ آپس میں ٹکرانے سے بال بال بچیں۔ سڑک کے کنارے لگے بڑے بڑے درخت اس طرح زور زور سے ہل رہے تھے جیسے کوئی طوفان آ گیا ہو۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا خوفناک زلزلہ کبھی نہیں دیکھا۔ ہمارے کالج کی کئی عمارتیں بھی جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔" 3. صدارتی حکم نامہ اور ہنگامی الرٹ: "انتظار نہ کریں، ابھی اونچی جگہ جائیں" زلزلے کی ہولناکی اور سونامی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھتے ہوئے فلپائن کے صدر فرینڈینڈ مارکوس (Ferdinand Marcos) نے پیر کی صبح ملک کے نام ایک ہنگامی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے فوری طور پر شہری دفاع کے دفتر (Office of Civil Defense) اور 'نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ کونسل' (NDRRMC) کو ہائی الرٹ پر ایکٹیویٹ کر دیا ہے۔ ملک کے نام صدارتی وارننگ صدر مارکوس نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی جذباتی اور سخت الفاظ میں اپیل کی: "متاثرہ صوبوں میں رہنے والے ہمارے تمام شہریوں (کبابیوں) سے میری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ سونامی کی سرکاری وارننگ کو مذاق یا معمولی نہ سمجھیں۔ کسی بھی چیز کا انتظار نہ کریں، اپنے گھروں اور سامان کو چھوڑیں اور اسی وقت پہاڑیوں اور اونچی جگہوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ آپ کی زندگی اور آپ کی جان کی حفاظت پیچھے رہ جانے والی کسی بھی مادی چیز سے زیادہ اہم ہے۔" صدر کے احکامات کے بعد منڈاناؤ کے تمام صوبوں میں تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں اور سرکاری دفاتر کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور تمام وسائل کو لوگوں کے محفوظ انخلاء کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔ 4. پورے ایشیا میں سونامی کا ہائی الرٹ: لہروں کی اونچائی اور اوقاتِ کار پیسفک سونامی وارننگ سینٹر (PTWC) نے ہائیڈرو گرافک ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد خبردار کیا ہے کہ اس زلزلے کے نتیجے میں سمندر کے اندر پیدا ہونے والی لہریں تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ لہروں کی ممکنہ اونچائی کا تخمینہ فلپائن: سونامی کی پہلی اور سب سے خطرناک لہریں 3 میٹر (تقریباً 10 فٹ) تک اونچی ہو سکتی ہیں، جو فلپائن کے ساحلی صوبوں کو بری طرح ہٹ کریں گی۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا: ان ممالک کے قریبی ساحلی علاقوں میں لہروں کی اونچائی 1 میٹر (3.3 فٹ) تک رہنے کا امکان ہے، جو کہ ساحلی بستیوں کو بہا لے جانے کے لیے کافی ہے۔ 5. جاپان، انڈونیشیا اور دیگر جزائر کے ہنگامی اقدامات چونکہ زلزلہ بحرِ الکاہل کے وسطی زون کے قریب تھا، اس لیے اس کا اثر صرف فلپائن تک محدود نہیں رہا بلکہ آس پاس کے تمام جزیروں اور ممالک نے اپنے سکیورٹی دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے۔ فلپائن کا 9 صوبوں کو خالی کرنے کا حکم فلپائنی حکام نے ملک کے نو اسٹریٹجک ساحلی صوبوں بشمول سارنگانی (Sarangani)، داواؤ اوکسیڈینٹل (Davao Occidental)، تاوی-تاوی (Tawi-Tawi) اور سولو (Sulu) کے تمام شہریوں کو فوری طور پر اندرونِ ملک یا پہاڑوں پر جانے کا حکم دیا ہے۔ PHIVOLCS نے سمندر میں موجود کشتیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کشتیاں بندرگاہوں پر ہیں، وہ فوری طور پر گہرے پانی کی طرف چلی جائیں، کیونکہ ساحل کے قریب سونامی لہریں کشتیوں کو پٹخ کر تباہ کر دیتی ہیں۔ انڈونیشیا کا فوری انخلاء کا حکم انڈونیشیا کی حکومت نے بھی ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے اپنے شمالی علاقوں، بالخصوص شمالی سولاویسی، شمالی گورونٹالو صوبے اور سانگیہ جزائر (Sangihe Islands) کے ساحلی مکینوں کو فوراً گھر بار خالی کر کے اونچے مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ جاپان کی وارننگ اور امریکی پوزیشن جاپان کے محکمہ موسمیات (JMA) نے اپنے دور دراز جزائر بشمول اوکی ناوا (Okinawa) اور ملک کے پورے جنوبی ساحلی پٹی کے لیے سونامی کا باقاعدہ الرٹ جاری کیا ہے۔ دوسری طرف، امریکی قومی سونامی وارننگ سینٹر نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ اس زلزلے سے امریکہ کے مغربی ساحلوں یا ہوائی جزائر کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگرچہ گوام اور شمالی ماریانا جزائر نے اپنی ابتدائی وارننگ منسوخ کر دی ہے، لیکن وہاں بھی ملاحوں کو تیز سمندری دھاروں کے باعث الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ ابھی تک اس زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات کے حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں کیونکہ کئی دور دراز علاقے ملبے تلے دبے ہونے اور مواصلاتی نظام کٹنے کی وجہ سے منقطع ہیں، تاہم فلپائنی فوج اور شہری دفاع کی ٹیمیں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر چکی ہیں۔