کمال مولیٰ مسجد تنازعہ: سپریم کورٹ کا عبوری حکم اور مسلم فریق کے تحفظات
مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع تاریخی بھوج شالا-کمال مولیٰ مسجد تنازعہ میں سپریم کورٹ کا تازہ ترین حکم مسلم کمیونٹی کے لیے مایوسی لے کر آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے، جس میں ہندو فریق کو احاطے میں پوجا کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر انصاف اور مذہبی آزادی کے حوالے سے 'دوہرے معیار' کی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ فیصلے کے اہم نکات اور ان کے اثرات: حقوق کا عدم توازن: ایک طرف ہندو فریق کو احاطے کے اندر پوجا کرنے کی اجازت مل گئی ہے، وہیں صدیوں سے اس جگہ کو اپنی عبادت گاہ ماننے والے مسلمانوں کو صرف ایک 'عارضی انتظام' کے تحت ریلیف دیا گیا ہے۔ عبادت کے لیے محدود جگہ: مسلم کمیونٹی کو اپنی مسجد کے اندر نہیں، بلکہ احاطے سے متصل ایک کھلی جگہ پر جمعہ کے دن (دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان) نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ انتظام کمیونٹی کو اپنے ہی ورثے سے بے دخل ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اے ایس آئی (ASI) کو ہدایات: عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کو ہدایت دی ہے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر احاطے میں کوئی بھی تعمیراتی تبدیلی نہ کی جائے۔ معاشرے اور نظام کے دوہرے معیار اس فیصلے کی روشنی میں یہ دکھ بھی ابھر کر سامنے آیا ہے کہ ملک میں مذہبی تقریبات کے حوالے سے نظریہ مختلف ہے۔ جب اکثریتی طبقہ سڑکوں یا عوامی مقامات پر شاندار اور پرشور تقریبات منعقد کرتا ہے تو اسے 'مذہبی آزادی' اور 'تہوار' مان لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر مسلم کمیونٹی مجبوری میں کھلے میدان یا سڑک کے کنارے نماز ادا کرتی ہے، تو اسے اکثر تنازعہ اور تجاوزات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آگے کی راہ اور انصاف کی امید سپریم کورٹ نے مسلم فریق کی اپیل پر تفصیلی سماعت کرنے کی بات کہی ہے، لیکن انصاف کا یہ عمل طویل ہے۔ تب تک کے لیے مسلم کمیونٹی اپنی عقیدت کی جگہ سے دور، صرف ایک عارضی رعایت کے بھروسے رہے گی۔ جمہوریت میں انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اعلیٰ عدالت اپنی آئندہ سماعتوں میں اس عدم توازن کو دور کرے گی اور ایک ایسا فیصلہ دے گی، جو ملک کے ہر شہری کے عقیدے اور حقوق کا یکساں احترام کرے، تاکہ کسی بھی کمیونٹی کو اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری محسوس نہ کرنا پڑے۔