اسرائیل میں اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے نئی حکومت بنانے کے لیے 4 شرائط رکھی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان میں حریدی برادری کے لیے فوجی خدمت لازمی کرنا، اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ملک برقرار رکھنا، آزادی کے وقت طے اصولوں کی پابندی اور غزہ سے حماس کی حکمرانی ختم کرنا شامل ہیں۔
27 اکتوبر کے انتخاب میں کسی اتحاد کو اکثریت نہیں ملی۔ 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 61 نشستیں ضروری ہیں۔ آئزنکوٹ کی پارٹی یاشار 21 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جماعتوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔
آئزنکوٹ کی 4 شرائط
1. یہودی اور جمہوری شناخت: اسرائیل یہودی اور جمہوری ملک رہے، تمام شہریوں کو برابر حقوق ملیں اور کسی امتیاز کی گنجائش نہ ہو۔
2. سب کے لیے فوجی خدمت: ہر شہری کے لیے فوج، قومی یا شہری خدمت ضروری ہو۔ فی الحال حریدی برادری کو فوج سے چھوٹ ملتی ہے، جسے آئزنکوٹ ختم کرنا چاہتے ہیں۔
3. 1948 کے اصولوں کی پابندی: نئی حکومت آزادی کے وقت طے شدہ جمہوریت، آزادی، انصاف اور برابری کے اصولوں پر چلے۔ نیتن یاہو حکومت کے عدلیہ میں تبدیلی والے متنازع قوانین کو منسوخ کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
4. غزہ سے حماس کی حکمرانی کا خاتمہ: غزہ میں حماس کی حکومت اور فوجی طاقت ختم ہو۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کی کارروائی میں بھاری تباہی ہوئی اور بڑی تعداد میں فلسطینی مارے گئے۔
حکومت سازی کی مدت
حکومت بنانے کے لیے رہنما کو 28 دن ملتے ہیں، ضرورت پڑنے پر 14 دن اور بڑھ سکتے ہیں، یعنی کل 42 دن۔ آئزنکوٹ صدر اسحاق ہرزوگ کے سامنے دعویٰ مضبوط کرنے کے لیے حمایت جمع کر رہے ہیں۔ یاشار نے لیکوڈ پر اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کو توڑنے کی کوشش کا الزام بھی لگایا ہے۔
اسرائیل میں اقتدار کی اس جنگ میں چاہے نیتن یاہو قائم رہیں یا آئزن کوٹ آگے آئیں، غازہ کے فلسطینیوں پر مظالم کے خاتمے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ آئزن کوٹ کی شرائط بھی اس تلخ حقیقت کا اشارہ دیتی ہیں کہ اسرائیلی سیاست میں وزیراعظم بننے کے پائے کی پہلی شرط ہی فلسطینیوں کے خلاف سخت گیر موقف اور عسکری کارروائیوں کو جاری رکھنا بن چکی ہے۔