​حکمران ہو تو ایسا! گورنرِ مدائن حضرت سلمان فارسی کی بے مثال خاکساری

حضرت سلمان فارسی بہت بڑے صحابی تھے ، تمام صحابہ کرام میں آپ نے سب سے زیادہ عمر پائی ہے ، آپ سبھی لوگوں کی خدمت کرتے اور بہت سیدھی سادی زندگی گزارتے تھے ۔ حضرت عمرؓ نے اپنی حکومت کے زمانے میں ان کو شہر مدائن کا گورنر بنا دیا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی کی سادگی کی وجہ سے نئے لوگ انھیں دیکھ کر سمجھ ہی نہیں پاتے تھے کہ یہ شہر مدائن کے گورنر ہیں ؛ بلکہ ان کو ایک عام آدمی سمجھ کر ان سے خدمت بھی لے لیا کرتے تھے اور حضرت سلمان فارسی بھی گورنر ہونے کے باوجود بلا کسی شرم کے ان کی خدمت کر دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت سلمان فارسی ایک عام آدمی کی طرح مدائن کی سڑک پر گھوم رہے تھے ۔ ملک شام کا ایک تاجر اپنی تجارت کا سامان بیچنے کے لیے مدائن آرہا تھا ۔ اس تاجر نے حضرت سلمان فارسی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ کوئی مزدور ہے ؛ اس لیے ان کو بلایا اور کہا کہ میرا سامان اٹھا کر فلاں جگہ لے چلو ، حضرت سلمان فارسی بھی بغیر کسی شرم کے اس تاجر کا سامان اٹھا کر چل دیئے ۔ کچھ دیر بعد جب مدائن کے شہریوں نے حضرت سلمان فارسی کو سامان اٹھائے ہوئے دیکھا ، تو اس شامی تاجر سے کہا : ارے ! یہ تو مدائن کے گورنر ہیں ! تو ان سے بوجھ اٹھوا رہا ہے ! یہ سن کر وہ تاجر گھبرا گیا اور شرمندہ ہو کر حضرت سلمان فارسی سے درخواست کرنے لگا : حضرت ! میں آپ کو پہچان نہیں سکا ؛ اس لیے آپ کے ساتھ یہ گستاخی ہو گئی ، مجھے معاف فرما دیں اور سامان مجھے دے دیں ، میں خود لے کر چلا جاؤں گا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی اپنے سر سے سامان اتارنے کے لیے بلکل تیار نہ ہوئے ؛ بلکہ فرمایا : میں نے ایک نیکی کی نیت کر لی ہے ، جب تک وہ پوری نہ ہوگی ، یہ سامان نہیں اتاروں گا ، پھر انھوں نے وہ سامان اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیا(طبقات ابنِ سعد البصری: ۵/۶۸) _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

نبوت کیا چیز ہے؟

نبوت کیا چیز ہے؟

مولاناشمس الحق افغانیؒ سے ایک قادیانی جج نے پوچھا: "نبوت کیا چیز ہے؟" مولانا شمس الحق افغانیؒ فرمانے لگے: "نبوت اعلٰی منصب ہے، اللہ جل شانہ جِسے چاہے دے دیتاہے۔" قادیانی بولا: "جب اتنا اچھا منصب ہے تو اِسے عام کرنا چاہئے۔" مولانا شمس الحق افغانیؒ نے سو¹⁰⁰ روپے کا نوٹ نکال کر فرمایا: "یہ نوٹ کیساہے؟؟" اُسی زمانے میں سو روپے کا نوٹ، بڑا نوٹ تھا۔ قادیانی بولا: "یہ تو اعلٰی چیز ہے۔" مولانا شمس الحق افغانیؒ نے فرمایا: "جب اتنی اعلی چیز ہے تو اِسے عام کرنا چاہئے۔ ایک مُہر میں اپنی طرف سے بناؤنگا اور جعلی نوٹ تیار کر کے عام کرتا رہونگا۔" قادیانی جج بولا: "یہ کام اگر آپ نے کیا تو آپ مجرم ہونگے اور سزا کے مستحق ہونگے۔ اِس کام کی اتھارٹی صرف حکومت کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں۔۔" مولاناشمس الحق افغانیؒ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔۔ اب یہ سمجھو کہ نبوت اگرچہ اعلٰی منصب ہے، مگر اسکی اتھارٹی صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔ جسکو وہ چاہے نبی بنادیتاہے۔۔ اب آپ لوگوں نے اپنا جعلی نبی بنایا ہے تو اس لئے آپ لوگ اللہ پاک کے نزدیک مجرم ہیں۔۔۔ اس تحریر کی ہر صاحبِ ایمان، زیادہ سے زیادہ تشہیرکرے ۔۔۔ یہ محمد صلى الله عليه واله وسلم سے محبت کا ادنٰی سا اظہار ھوگا۔ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ