📚 اساتذہ کے لیے مفید باتیں ۔۔۔۔!!! ✒ کبهی بهی بغیر مرض کے مرض کی رخصت نہ لیں کہ اس سے آپ دو گناہوں کو جمع کریں گے : جهوٹ اور حرام مال کھانا...اور اللہ کی قسم اللہ کا خوف اور تقوی سب سے بہترچیز ہے... ✒ اپنے طالب علموں کی غلطیوں کو درگزر کریں کیونکہ نہ تو فرشتے ہیں اور نہ شیاطین...اور آپ انکے مربی ہیں... ✒ اپنے طالب علموں کے لیے اپنی محبت اور فکر کا اظہار کریں اس سے انکے دلوں میں آپ کے لیے جگہ بنے گی... ✒ یاد رکھیں کے بہت سے لوگ اپنے اساتذہ کے حوصلہ افزائی والے ایک جملے سے عظیم بن گئے اور بلندیوں پہ پہنچ گئے تو آپ بهی عظیم لوگ بنانے والے بنیں... ✒ اپنے معاملات کو طلبہ کے ساتھ اچھا رکھیں تاکہ آپ موت کے بعد بهی ان کی دعاؤں کا حصہ بنے ر هیں... ✒ آپ کے سبق کا ہر منٹ طالب علم کا حق ہے اگر آپ ضائع کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے سوال هوگا... ✒ نوجوان نسل کی اصلاح کر کے اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں... ✒ اپنی نیت کو خالص رکھیں آپ کا کام نبیوں والا کام ہے ،اجر کی امید اور اخلاص سے کام کریں تو آپکا پورا دن نیکیوں میں لکھا جائے گا۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

ایک نوجوان اپنی زندگی کے معاملات سے کافی پریشان تھا ۔ اک روزایک درویش  سے ملا قات ہو گئی تواپنا حال  کہہ سنایا ۔ کہنے لگا کہ بہت پریشان ہوں۔ یہ دکھ اور پریشانیاں اب میری برداشت ہے باہر ہیں ۔ لگتا ہے شائد میری موت ہی مجھے ان غموں سے نجات دلا سکتی ہے۔ درویش نے اس کی بات سنی اور کہا جاؤ اور نمک لے کر آؤ۔ نوجوان حیران تو ہوا کہ میری بات کا نمک سے کیا تعلق پر پھر بھی  لے آیا ۔ درویش نے کہا پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو اور اسے پی لو۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا تو درویش نے پوچھا : اس کا ذائقہ کیسا لگا ؟ نوجوان تھوكتے ہوئے بولا بہت ہی خراب، ایک دم کھارا درویش مسکراتے ہوئے بولا اب ایک مٹھی نمک لے کر میرے ساتھ اس سامنے والی جھیل تک چلو۔ صاف پانی سے بنی اس جھیل کے سامنے پہنچ کر درویش نے کہا چلو اب اس مٹھی بھر نمک کو پانی میں ڈال دو اور پھر اس جھیل کا پانی پیو۔ نوجوان پانی پینے لگا، تو درویش نے پوچھا بتاؤ اس کا ذائقہ کیسا ہے، کیا اب بھی تمہیں یہ کھارا لگ رہا ہے ؟ نوجوان بولا نہیں ، یہ تو میٹھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔ درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ہمارے دکھ بالکل اسی نمک کی طرح ہیں ۔ جتنا نمک گلاس میں ڈالا تھا اتنا ہی جھیل میں ڈالا ہے۔ مگر گلاس کا پانی کڑوا ہو گیا اور جھیل کے پانی کو مٹھی بھر نمک سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح انسان بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق تکلیفوں کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔ جب تمھیں کوئی دکھ ملے تو خود کو بڑا کر لو، گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ۔ اللہ تعالی کسی پر اس کی ہمت سے ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔   اس لئے ہمیں ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے کہ جتنے بھی دکھ آئیں ہماری برداشت سے بڑھ کر نہیں ہوں گے... ــــــــــــــــــــــــــ📝📝ــــــــــــــــــــــــــ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ