📚 اساتذہ کے لیے مفید باتیں ۔۔۔۔!!! ✒ کبهی بهی بغیر مرض کے مرض کی رخصت نہ لیں کہ اس سے آپ دو گناہوں کو جمع کریں گے : جهوٹ اور حرام مال کھانا...اور اللہ کی قسم اللہ کا خوف اور تقوی سب سے بہترچیز ہے... ✒ اپنے طالب علموں کی غلطیوں کو درگزر کریں کیونکہ نہ تو فرشتے ہیں اور نہ شیاطین...اور آپ انکے مربی ہیں... ✒ اپنے طالب علموں کے لیے اپنی محبت اور فکر کا اظہار کریں اس سے انکے دلوں میں آپ کے لیے جگہ بنے گی... ✒ یاد رکھیں کے بہت سے لوگ اپنے اساتذہ کے حوصلہ افزائی والے ایک جملے سے عظیم بن گئے اور بلندیوں پہ پہنچ گئے تو آپ بهی عظیم لوگ بنانے والے بنیں... ✒ اپنے معاملات کو طلبہ کے ساتھ اچھا رکھیں تاکہ آپ موت کے بعد بهی ان کی دعاؤں کا حصہ بنے ر هیں... ✒ آپ کے سبق کا ہر منٹ طالب علم کا حق ہے اگر آپ ضائع کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے سوال هوگا... ✒ نوجوان نسل کی اصلاح کر کے اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں... ✒ اپنی نیت کو خالص رکھیں آپ کا کام نبیوں والا کام ہے ،اجر کی امید اور اخلاص سے کام کریں تو آپکا پورا دن نیکیوں میں لکھا جائے گا۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اختلاف کے باوجود بے نظیر اتحاد:

اختلاف کے باوجود بے نظیر اتحاد:

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں بعض مسائل کا اختلاف رہا ہے ؛ مگر ایک دوسرے کے احترام میں کبھی فرق نہیں آیا ، کون نہیں جانتا کہ خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے مسئلے میں صحابۂ کرام میں شدید اختلاف ہوا اور اس کی بنا پر جنگ بھی ہوئی ؛ مگر کیا مجال کے ان کے اس اختلاف سے ایک دوسرے کے احترام میں فرق آجائے ۔ چناںچہ عین جنگ کے موقعے پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو روم کی عیسائی سلطنت کی طرف سے جس کا سربراہ ’’ قیصر ‘‘ تھا خط ملا ۔ اس میں لکھا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے امیر ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور تم پر ظلم کر رہے ہیں ، اگر آپ چا ہیں ؛ تو ہماری فوج آپ کی مددکو بھیچ دیں گے ۔ اگر ہم آپ کی جگہ ہو تے ، تو مخالف کی تو ہین و تذلیل اور اس کو شکست دینے کے لیے فوج منگوالیتے ۔ مگر گوش ہوش سے سننے کے قابل ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیصر روم کو جواب یہ دیا : ’’ اے نصرانی کتے ! تو ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ؟ ! یاد رکھ اگر تو نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ترچھی نگاہ سے بھی دیکھا ، تو سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کا سپا ہی بن کر تیری آنکھ پھوڑنے والا میں ہوں گا ۔ ‘‘ ایسے سینکڑو ں واقعات ہیں ، یہاں مثال کے طور پر ایک نقل کیاگیا ہے ، غرض یہ ہے کہ امت کے اتحاد کے لیے لا زم ہے کہ وہ ایک دوسرے کا احترام اور اکرام کریں اور اپنے اختلا فات کو حدود سے آگے نہ بڑھنے دیں اور آپس میں حسنِ سلوک کا معاملہ کریں ۔ (واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے)