ایک پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے اپنی کرامت کا ذکر کر رھے تھے...🙂👇 کہ میں صحرا میں جا رہا تھا، چلتے چلتے دو دن گزر گئے تھے 🚶‍♂️ بھوک لگتی تو ہاتھ بڑھا کر اڑتا ھوا کوئی پرندہ پکڑ لیتا اور سورج کی روشنی پر بھون کر کھاتا...!! خدا کر شکر ادا کر کے آگے چل پڑتا، نماز کا خیال آیا تو پانی ختم ھو چکا تھا تو میں نے ایک جھاڑی دیکھی اس کے پاس جا کر زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی تو اس کے نیچے سے پانی کا چشمہ نکل آیا میں پینے لگا تو خیال آیا کہ یہ جھاڑی پیاسی ھے پہلے اسے پانی پلاؤں، چلو بھر پانی اس کی جڑ میں ڈالا تو وہ درخت بن گئی اور اس کے سائے میں نماز ادا کرنے کا سوچا وضو کے لیے چلو میں پانی لیکر کلی کی تو جہاں جہاں پانی گرا گلاب کے پھول کھل گئے...!! چہرے پر پانی ڈالا تو پانی کے قطرے زمین پر گرنے کے بجائے ہر قطرہ ایک کالے رنگ کا طوطا بن کر درخت کی ٹہنی پر بیٹھ گیا اور میرے مریدوں کے لیے دعا کرنے لگا...😇💁‍♂️ مرید جو جھوم جھوم کر سن رھے تھے ان میں سے ایک مرید بولا : پیر صاحب کالے رنگ کا طوطا...؟؟ 😕🤔 پیر صاحب نے غضب ناک انداز میں اس کی طرف دیکھا تو ساتھ بیٹھے دوسرے مرید نے کہا : چپ کر اوئے...! یہاں باقی کام بڑا سائنس کے اصول کے مطابق ھو رھے ھیں جو تجھے کالے طوطے پہ شک ھے...😁😂☠️

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علم نافع کی علامت

علم نافع کی علامت

ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ علم نافع کی علامت کیا ہوتی ہے؟ جی ہاں نفع دینے والا علم بھی ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے ہمیں دعاء سکھائی ہے: اللهم اني أعوذ بك من علم لا ينفع “اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دیتا ہو چناں چہ علم نافع کی دو علامتیں ہیں۔ پہلی علامت: بندے کو اس علم پر عمل کرنے کو توفیق مل جاتی ہے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ایک مرتبہ طلباء سے پوچھا بتاؤ علم کا مفہوم کیا ہے؟ وہ بتاتے رہے، جاننا پہچاننا وغیرہ۔ حضرت خاموش رہے بالآخر ایک طالب علم نے کہا حضرت آپ ہی بتائیے۔ آپ نے فرمایا : علم وہ نور ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد اس پر عمل کئے بغیر چین نہیں آتا اگر دل کی یہ حالت ہوتی ہے تو علم نافع ہے۔ عمل کے بغیر بندے کو چین نہیں آتا، گناہ کر بیٹھے تو اللہ سے رو رو کر معافی مانگے بغیر اس کو سکون نہیں ملتا ہے، اندر ایک آگ لگی ہوتی ہے۔ دوسری علامت: انسان کے دل کے اندر وحشت بڑھ جاتی ہے: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءِ (فاطر) دیکھا قرآن عظیم الشان نے نشانی بتادی ہے بے شک اللہ کے بندوں میں سے علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، انسان کے دل میں خشوع، ڈر اور خوف بڑھ جاتا ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں: بڑا عالم وہ ہے جس پر گناہوں کی مضرتیں زیادہ کھل جائے ، گناہوں کے نقصانات جتنے واضح ہوں گے، وہ اتناہی پیچھے ہٹے گا۔ ___📝📝📝___ کتاب : طلبہ کے لیے اثر انگیز نصائح۔ صفحہ نمبر: ۳۵۱ - ۳۵۲۔ مصنف : حضرت مولانا حذیفہ بن غلام محمد وستانوی