اعتدال کی حسین شاہراہ ، مرکز علم و عرفاں ، منبع خیر و برکت ، اہل حق کی اماجگاہ ، ترجمان اہل سنت والجماعت ، ام المدارس ، ازہر ہند ، دارالعلوم دیوبند ، اس کو ایک ادارہ کہیے یا کہیے دور فرنگ میں چلائی جانے والی ایک انقلابی تحریک ، موجودہ دور میں پنپنے والے فتنوں کی کاٹ کہیے یا کہیے اس دور تجددی میں اصل ہیئت اسلام کی بقا کا ضامن ، حصن تحفظ ختم نبوت کہیے یا کہیے دفاع اسلام کے لیے قائم کی جانے والی ایک آہنی دیوار ۔ الغرض یہ ادارہ قدرت خداوندی کا ایک عظیم شاہکار ، حکمت خداوندی کا مظہر ، عالم اسلام خصوصا بر صغیر کے متدینین پر ایک عظیم احسان ، احیاء اسلام کی ایک سبیل ، اور احقاق حق و ابطال باطل کی ایک تفسیر ہے۔ خلوص تقوی کی بنیاد پر قیام پذیر ہونے والا یہ بابرکت ادارہ جہاں بقائے اسلام کا ضامن ٹھہرا ، وہیں مردم سازی کا ایسا بے مثال کیمپ ثابت ہوا جہاں سے سینکڑوں محدثین و مفسرین ہزاروں فقہاء و متکلمین اور بے شمار خطباء و واعظین نکلے جنہوں نے ہر میدان ہر شعبے اور دنیا کے ہر کونے میں کامیابی و کامرانی کے نہ صرف جھنڈے گاڑے بلکہ ایسے ایسے کارہاۓ نمایاں انجام دیے جن پر عقل دنیا حیرت زدہ رہ گئی اور ان کی تربیت پر اہل دنیا عش عش کرتے رہ گئے جی ہاں میں بات کر رہا ہوں اسی دارالعلوم دیوبند اور اس کے فیض یافتہ علمائے دیوبند کی ، شاعر کہتا ہے : تاریخ مرتب کرتی ہے دیوانوں کی روداد یہاں ۔ اور الحمدللہ مردم سازی کا یہ مبارک سلسلہ تاہنوز جاری ہے اور انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا ۔ ✍🏻#مستقیمـجمالی ---------------------------------------------

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اللہ کا کام اللہ ہی جانے : عبرت آموز واقعہ

اللہ کا کام اللہ ہی جانے : عبرت آموز واقعہ

سامان سے لدا ہوا ایک بحری جہاز محو سفر تھا کہ تیز ہواوں کی وجہ سے وہ الٹنے لگا ۔ قریب تھا کہ جہاز ڈوب جاتا ، اس میں موجود تاجروں نے کہا کہ بوجھ ہلکا کرنے کیلیئے کچھ سامان سمندر برد کرتے ہیں ۔ تاجروں نے مشورہ کر کے طے کیا کہ سب سے زیادہ سامان جس کا ہو ، وہی پھینک دیں گے ۔ جہاز کا زیادہ تر لوڈ ایک ہی تاجر کا تھا ۔ اس نے اعتراض کیا کہ صرف میرا سامان کیوں ؟ سب کے مال میں سے تھوڑا تھوڑ پھینک دیتے ہیں ۔ انہوں نے زبر دستی اس نئے تاجر کو سامان سمیت سمندر پھینک دیا ۔ قدرت کی شان کہ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ کھلینے لگیں ۔ اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا ، جب ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا ہے ۔ یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا ۔ جان بچنے پر اس نے رب کا شکر ادا کیا ۔ اپنی سانسیں بحال کیں، وہاں پڑی لکڑیوں کو جمع کر کے سر چھپانے کیلیئے ایک جھونپڑی سی بنائی. اگلے روز ا سے کچھ خرگوش بھی نظر آئے ۔ ان کا شکار کر کے گزر بسر کرتا رہا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ کھانا پکا رہا تھا کہ اس کی جھونپڑی کو آگ لگ گئی ۔ اس نے بہت کوشش کی ، مگر آگ پر قابو نہ پاسکا ۔ اس نے زور سے پکارنا شروع کیا ، تو نے مجھے سمندر میں پھینک دیا ۔ میرا سارا سامان غرق ہو گیا ۔ اب یہی جھونپڑی تھی میری کل کائنات ، اسے بھی جلا کر راکھ کر دیا ۔ اب میں کیا کروں ؟ یہ شکوا کر کے وہ خالی پیٹ سو گیا ۔ صبح جاگا تو عجیب منظر تھا ۔ دیکھا کہ ایک کشتی ساحل پر لگی ہے اور ملاح اسے لینے آئے ہیں ۔ اس نے ملاحوں سے پوچھا کہ تمہیں میرے بارے میں کیسے پتہ چلا ؟ انہوں نے جو جواب دیا ، اس سے تاجر حیران رہ گیا۔ ملاحوں نے کہا کہ ہمیں پتہ تھا کہ یہ جزیرہ غیر آباد ہے ، لیکن دور سے دھواں اٹھتا ہوا نظر آیا تو سمجھے شاید کوئی یہاں پھنسا ہوا ہے ، جسے بچانا چاہئے ۔ اس لئے ہم تمہارے پاس آئے ۔ پھر تاجر نے اپنا پورا قصہ سنایا تو ملاحوں نے یہ کہہ کر اسے مزید حیران کر دیا کہ جس جہاز سے تمہیں سمندر میں پھینکا گیا ، وہ آگے جا کر غرق ہو گیا ۔ یہ سن کر تاجر سجدے میں گر گیا ، رب کا شکر ادا کرنے لگا اور کہا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے بچانے کیلئے تاجروں کے ہاتھوں سمندر میں پھنکوایا ۔ اپنے بندوں کے بارے میں وہی زیادہ جاننے والا ہے ۔ تنبیہ : حالات جتنے بھی سخت ہو جائیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھیے ، کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے۔ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔ ___________📝📝___________