"ہم ایران کے مسلک کو قبول نہیں کرتے، نہ اس کی پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے ظلم اور زیادتیوں کو بھولتے ہیں۔ *لیکن اگر اس پر کوئی بیرونی کافر حمـ.ـلہ کرے تو دین کا تقاضا ہرگز یہ نہیں کہ ہم کافر کے غلبے پر خوشی منائیں یا اس کی مدد کریں یا یہ تمنا کریں کہ مسلمانوں کی کوئی سرزمین اس کے قبضے میں چلی جائے۔* اختلاف ہو سکتا ہے، مخالفت ہو سکتی ہے، تنبیہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر `مسلمانوں کی گردنیں ایسے دشمن کے حوالے نہیں کی جا سکتیں جو پوری امت پر گھات لگائے بیٹھا ہے، اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں ایک غیر معمولی تعداد اہل سنت والجماعت کی بھی موجود ہے` جو مذہب اور مسلک میں تفریق نہیں کرتا بلکہ `اسلام کو مجموعی طور پر نشانہ بناتا ہے۔` *ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شر کو دور کرے، خونریزی کو روکے، حالات کی اصلاح فرمائے، اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔"* (آمین) > فلسطیـ.ـنی داعی، جہـ.ـاد حلـ.ـس — غـ.ـزہ *مزید پوسٹ کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں* https://whatsapp.com/channel/0029Va5sIvuBKfi0pDP0py1H

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

جب تک عیسائی مذہب سیاست سے ہم آہنگ نہیں تھا، اُس وقت تک دُنیا کی ہر قوم کا اپنا ایک الگ لباس ہوتا تھا۔ اب بھی جہاں جہاں عیسائی مذہب کسی قوم کی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوا وہاں اب بھی اس قوم کا اپنا ایک مخصوص قومی لباس ہے۔ جن ملکوں میں عیسائیت سیاست سے ہم آہنگ ہوکر پہنچی وہاں کا قومی لباس محمود غزنوی کے چہیتے غُلام ایاز کے "لباسِ غُلامی" کی طرح پُرانے صندوق میں چُھپا دیا گیا ہے، جو کبھی کبھار عید کے تہوار پر محض پُرانی یاد تازہ کرنے کے لیے نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ عیسائیت کا لباس کوٹ پتلون اور نکٹائی اب ایک بین الاقوامی لباس بن گیا ہے جسے اب عیسائیوں کے علاوہ ہر مذہب، ہر مُلک اور ہر قوم کے باشندے پہنتے ہیں۔ جہاں تک کوٹ پتلون والے لباس کا تعلق ہے اُسے دیکھ کر کسی شخص کی قومیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہاں البتہ چہرے کے رنگ یا بولی جانے والی زبان سے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص امریکی ہے یا فلاں شخص پاکستانی۔ ( معروف ادیب و صحافی ابراہیم جلیس کی کتاب "اُوپر شیروانی اندر پریشانی" سے اقتباس )