مدد کرنے کا انوکھا انداز 😆 جب میں پہلی بار سپر فاسٹ ٹرین میں سوار ہوا اور پہلے سے موجود مسافروں سے پوچھا کہ مرادآباد کب آئے گا؟ مجھے اترنا ہے تو مسافروں نے بتایاکہ "بھائی یہ سپرفاسٹ گاڑی ہے مرادآباد میں نہیں رکتی" "مرادآباد سے گزرے گی مگر رکے گی نہیں" یہ سن کر میں گھبرا گیا۔۔😟مسافروں نے کہا "گھبراؤ نہیں!"مرادآباد میں روز یہ ٹرین کافی حد تک سلَو ہو جاتی ہے ،تم ایک کام کرنا،جیسے ہی ٹرین سلو ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اترنا اور آگے کی طرف بنا رکے دوڑتے ہوئے کچھ دور جاناجس طرف ٹرین جا رہی ہے، اس طرف ہی دوڑنا تو تم گروگے نہیں" اس بات سے میں مطمئن ہوگیا۔ مرادآباد آنے سے قبل ہی مسافروں نے مجھے گیٹ پر کھڑا کر دیا مرادآباد آتے ہی میں ان کے بتائے طریقہ کے مطابق پلیٹ فارم پر کودا 🦘اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا۔۔🏃🏃🏃 اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبہ تک جا پہنچا...🚃🚃🚃 اس ڈبہ کے مسافروں نے جب مجھے ٹرین کے ساتھ بھاگتے دیکھا تو جھٹ سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑا اور دوسرے نے شرٹ پکڑی اور مجھے کھینچ کر واپس ٹرین میں چڑھا لیا۔😭😡😢 اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر بول رہے تھے "تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی ،ورنہ یہ سپر فاسٹ ٹرین ہے اور مرادآباد میں نہیں رکتی!!" 😝😆

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

گھی چور ملازم

گھی چور ملازم

ایک بندہ کریانے کی ایک دکان پر ملازم تھا. وہ کسی نہ کسی بہانے دکان سے کچھ نہ کچھ چوری کرتا رہتا تھا. دکان کا مالک بڑا ہی خوش اخلاق اور امانتدار انسان تھا. وقت گزرتا گیا اور دس بارہ سال گزر گئے. اللہ نے مالک کو خوب برکت دی اور اس کی دکان شہر کی سب سے بڑی دکان بن گئی. روزانہ لاکھوں کی آمدن ہونے لگی. ایک دن اس ملازم کے گھر سے ٹفن میں کھانا آیا ہوا تھا. ملازم نے چوری سے ٹفن میں دیسی گھی ڈال دیا. اللہ کی شان کہ واپس لے جاتے ہوئے اس کے بچے سے ٹفن نیچے گر کر کھل گیا اور اس کی چوری پکڑی گئی. مالک کا بیٹا غصہ میں آ گیا اور ملازم کو برا بھلا کہنے لگا مگر مالک نے اپنے بیٹے کو سختی سے روک دیا اور کہا: " بیٹا! اسے چھوڑ دو. تمہیں آج پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کرتا ہے مگر مجھے پچھلے بارہ سال سے معلوم ہے. اس کے باوجود میں نے اسے کبھی سمجھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا. بس اتنا سوچو کہ ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی روزانہ کی چوری کے باوجود بھی ہم کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور یہ بارہ سال چوری کرکے بھی آج تک ملازم کا ملازم ہی ہے." اسی طرح امانتدار انسان اپنی ایمانداری اور محنت کے ذریعے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے مگر دھوکہ باز اور چور گندگی میں ہی پڑا رہ جاتا ہے. منقول!