مدد کرنے کا انوکھا انداز 😆 جب میں پہلی بار سپر فاسٹ ٹرین میں سوار ہوا اور پہلے سے موجود مسافروں سے پوچھا کہ مرادآباد کب آئے گا؟ مجھے اترنا ہے تو مسافروں نے بتایاکہ "بھائی یہ سپرفاسٹ گاڑی ہے مرادآباد میں نہیں رکتی" "مرادآباد سے گزرے گی مگر رکے گی نہیں" یہ سن کر میں گھبرا گیا۔۔😟مسافروں نے کہا "گھبراؤ نہیں!"مرادآباد میں روز یہ ٹرین کافی حد تک سلَو ہو جاتی ہے ،تم ایک کام کرنا،جیسے ہی ٹرین سلو ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اترنا اور آگے کی طرف بنا رکے دوڑتے ہوئے کچھ دور جاناجس طرف ٹرین جا رہی ہے، اس طرف ہی دوڑنا تو تم گروگے نہیں" اس بات سے میں مطمئن ہوگیا۔ مرادآباد آنے سے قبل ہی مسافروں نے مجھے گیٹ پر کھڑا کر دیا مرادآباد آتے ہی میں ان کے بتائے طریقہ کے مطابق پلیٹ فارم پر کودا 🦘اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا۔۔🏃🏃🏃 اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبہ تک جا پہنچا...🚃🚃🚃 اس ڈبہ کے مسافروں نے جب مجھے ٹرین کے ساتھ بھاگتے دیکھا تو جھٹ سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑا اور دوسرے نے شرٹ پکڑی اور مجھے کھینچ کر واپس ٹرین میں چڑھا لیا۔😭😡😢 اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر بول رہے تھے "تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی ،ورنہ یہ سپر فاسٹ ٹرین ہے اور مرادآباد میں نہیں رکتی!!" 😝😆

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​​​محمد نام کے چار خوش نصیب محدثین

​​​​محمد نام کے چار خوش نصیب محدثین

تیسری صدی ہجری میں مصر میں چار محدثین بہت مشہور ہوئے، چاروں کا نام محمد تھا ، اور چاروں علمِ حدیث کے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہوئے ـ ان میں سے ایک محمد بن نصر مروزیؒ ہیں، دُوسرے محمد بن جریر طبریؒ ، تیسرے محمد بن المنذرؒ اور چوتھے محمد بن اِسحاق بن خزیمہؒ ـ ان کا ایک عجیب واقعہ حافظ ابن کثیرؒ نے نقل کیا ہے ـ یہ چاروں حضرات مشترک طور پر حدیث کی خدمت میں مشغول تھے، بسا اوقات ان علمی خدمات میں اِنہماک اس قدر بڑھتا کہ فاقوں تک نوبت پہنچ جاتی ـ ایک دن چاروں ایک گھر میں جمع ہوکر اَحادیث لکھنے میں مشغول تھے، کھانے کو کچھ نہیں تھا، بالآخر طے پایا کہ چاروں میں سے ایک صاحب طلبِ معاش کے لئے باہر نکلیں گے تاکہ غذا کا اِنتظام ہوسکے ـ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت محمد بن نصر مروزی ؒ کے نام نکلا ، انہوں نے طلبِ معاش کے لئے نکلنے سے پہلے نماز پڑھنی اور دُعا کرنی شروع کردی ـ یہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا اور مصر کے حکمران احمد بن طولونؒ اپنی قیام گاہ میں آرام کر رہے تھے ، ان کو سوتے ہوئے خواب میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ فرمارہے تھے کہ: "محدثین کی خبر لو! ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے ـ" ابنِ طولونؒ بیدار ہوئے تو لوگوں سے تحقیق کی کہ اس شہر میں محدثین کون کون ہیں ؟ لوگوں نے ان حضرات کا پتہ دیا ، احمد بن طولونؒ نے اسی وقت ان کے پاس ایک ہزار دِینار بھجھوائے اور جس گھر میں وہ خدمتِ حدیث میں مشغول تھے اسے خرید کر وہاں ایک مسجد بنوادی اور اسے علمِ حدیث کا مرکز بناکر اس پر بڑی جائیداد دیں وقف کردیں ـ (البدایہ والنہایہ ج : ۱۱ ص : ۱۰۳ سن ۲۹۴ھ و ج : ۱۱ ص : ۱۴۶ سن ۳۲۱ھ) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تراشے 📔 (صفحہ نمبر : ۱۷۹،۱۸۰ ) تالیف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ