​​امام غازی بن قیس الأندلسی رحمہ اللہ (١٩٩ھ) جب حصولِ علم کی غرض سے مدینہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں ایک شخص داخل ہوا اور تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ گیا۔ غازی اس سے کہنے لگے : ”ارے بھائی، اٹھ کر دو رکعتیں پڑھو، تمہاری جہالت ہے کہ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے ہو۔“ اور بھی سخت باتیں کہیں۔ اس شخص نے اُٹھ کر دو رکعتیں پڑھ لی۔ فرض نماز ختم ہوئی تو غازی نے دیکھا کہ وہ شخص ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ہے، اور اس کے گرد طلبہ کا حلقہ بننا شروع ہو گیا ہے۔ اب وہ خاصے شرمندہ ہوئے۔ لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے تو انہوں نے بتلایا کہ یہ مدینہ کے فقیہ اور بڑے لوگوں میں سے ایک ابن ابی ذئب رحمہ اللہ ہیں۔ غازی فورًا ان سے معذرت کو لپکے مگر امام صاحب نے فرمایا : ”میرے بھائی، کوئی بات نہیں۔ آپ نے ہمیں نیکی کا حکم دیا، اور ہم نے آپ کی بات مانی۔“ (التمهيد لابن عبدالبر : ٤٦٠/١٢)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مشہور عربی حکایت: “سچ کے گواہ”

مشہور عربی حکایت: “سچ کے گواہ”

کہتے ہیں ایک بستی ایسی تھی جو جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھی۔ اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ طور پر، مگر مکمل شرعی طریقے سے نکاح کر لیا۔ قاضی، گواہان، اور شرعی تقاضے سب پورے تھے۔ کچھ عرصے بعد دونوں میں ناچاقی ہو گئی۔ شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا اور اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ مظلوم خاتون قاضی کے پاس پہنچی اور شکایت کی کہ شوہر نے نہ صرف نکال دیا ہے بلکہ میرا حق بھی چھین لیا ہے۔ قاضی نے پوچھا: "کیا واقعی تمہارا نکاح ہوا تھا؟" خاتون نے جواب دیا: "جی، مکمل شرعی نکاح ہوا تھا۔ قاضی اور دو گواہوں کی موجودگی میں۔" قاضی نے شوہر اور گواہوں کو عدالت میں طلب کیا۔ لیکن تینوں نے عدالت میں صاف انکار کر دیا۔ سب نے کہا: "ہم نے نہ اس عورت کو کبھی دیکھا ہے اور نہ کوئی نکاح ہوا۔" اب قاضی صاحب نے عورت سے اب پوچھا: "کیا تمہارے شوہر کے پاس کتے ہیں؟" خاتون نے کہا: "جی ہاں۔" قاضی نے فرمایا: "کیا تم ان کتوں کی گواہی اور فیصلہ قبول کرو گی؟" خاتون نے کہا: "جی ہاں، میں ان کی گواہی قبول کرتی ہوں۔" قاضی نے حکم دیا: "اس عورت کو اس کے شوہر کے گھر لے جایا جائے۔ اگر کتے اسے دیکھ کر بھونکیں، اجنبی سمجھ کر رد عمل دیں تو وہ جھوٹی ہے۔ لیکن اگر وہ اسے دیکھ کر خوش ہوں، پہچانیں اور استقبال کریں، تو وہ عورت سچی ہے، اور شوہر اور گواہ جھوٹے۔" یہ سن کر شوہر اور گواہوں کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا، جسم کانپنے لگے—جھوٹ اب بے نقاب ہونے کو تھا۔ قاضی نے بلند آواز میں کہا: "فَجَلِّدُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ!" “ان جھوٹوں کو گرفتار کر کے کوڑے مارو، یہی جھوٹے ہیں۔” پھر قاضی نے اپنے مشاہدے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "بِئْسَ القُرَى الَّتِي كِلَابُهَا أَصْدَقُ مِنْ أَهْلِهَا!" “کتنی بدنصیب ہے وہ بستی جس کے کتے، انسانوں سے زیادہ سچے ہوں۔” _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔