*ایذائے مسلم کی عام صورتیں* 🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾 *زبان سے ایذا* غیبت، چغلی، گالی گلوچ، سخت لہجہ، طنزیہ الفاظ۔ *دل آزاری* کسی کو کمتر سمجھنا، عزتِ نفس کو مجروح کرنا، بے وجہ ڈانٹ ڈپٹ۔ *جھوٹ اور فریب* لین دین یا وعدوں میں دھوکہ دینا۔ *بدگمانی اور تہمت* بلا تحقیق الزام لگانا یا نیت پر حملہ کرنا۔ *مالی ایذا* قرض ادا نہ کرنا، مزدور کی مزدوری روکنا، ناجائز منافع خوری۔ *جسمانی ایذا* مار پیٹ، دھکا دینا، بلاوجہ سختی کرنا۔ *حقوق کی پامالی* پڑوسی کے حقوق نظرانداز کرنا، راستہ تنگ کرنا، شور و تکلیف دینا۔ *عہد شکنی* وعدہ خلافی، معاہدے توڑنا۔ *ذاتی اشیاء کا ناحق استعمال* کسی کی چیز بغیر اجازت استعمال کرنا یا نقصان پہنچانا۔ *ناانصافی و ظلم* اختیارات یا طاقت کا غلط استعمال، کمزور کو دبانا۔ *یہ وہ صورتیں ہیں جو ہمارے گھروں، اداروں، بازاروں اور محلوں میں روزمرہ دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے سدباب سے ہی معاشرہ راحت و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ :

حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں ایک باپ نے اپنے بیٹے پر دعویٰ کیا کہ یہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے دریافت کیا اس نے کہا اے امیر المومنین ! کیا باپ ہی کا سارا حق اولاد پر ہے یا اولاد کا بھی باپ پر کچھ حق ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اولاد کا بھی باپ کے ذمہ حق ہے ، کہا میں ان حقوق کو سننا چاہتا ہوں ۔ فرمایا اولاد کا حق باپ پر یہ ہے کہ اولاد حاصل کرنے کے لیے شریف عورت تجویز کرے ! اور جب اولاد پیدا ہو تو ان کا نام اچھا رکھے تا کہ اس کی برکت ہو ! اور جب ان کے ہوش درست ہو جائیں ان کو تہذیب سکھائے اور دین کی تعلیم دے ! لڑکے نے کہا کہ میرے باپ نے ان حقوق میں سے ایک حق بھی ادا نہیں کیا اور جب میں پیدا ہوا تو میرا نام ”جعل“ رکھا جس کا معنی ”پاخانہ کا کیڑا“ ! اور مجھے دین کا ایک حرف بھی نہیں سکھایا مجھے دینی تعلیم سے بالکل کورا رکھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باپ پر بہت غصہ آیا اور اس کو بہت دھمکایا اور یہ کہہ کر مقدمہ خارج کر دیا کہ جاؤ پہلے تم اپنے ظلم کی مکافات کرو اس کے بعد لڑکے کے ظلم کی فریاد کرنا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقدمہ خارج کر دیا اور باپ سے فرمایا کہ تو نے اس سے زیادہ حق تلفی کی ہے جاؤ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا کرو۔ (الفیض الحسن ص ۱۰۲ ، حقوق البیت ص ۴۷) (کتاب : ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ) مزید قیمتی مضامین کے لیے ہمارے واٹسپ چینل کو فالو کریں https://whatsapp.com/channel/0029Va5sIvuBKfi0pDP0py1H