کوئی بھی آنکھ مکمل نہیں ہے! 👁️ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بہتر دیکھنے کی صلاحیت بھی کسی قیمت پر حاصل ہوتی ہے؟ قدرت نے ہر آنکھ کو کمال (Perfection) کے لیے نہیں بلکہ بقا (Survival) کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کیسے: 👁️ انسان (Human) انسانی آنکھ تیز، فوکسڈ اور رنگوں کی پہچان میں بہترین ہے۔ لیکن: اس میں ایک 'بلائنڈ اسپاٹ' ہوتا ہے اور کئی جانوروں کے مقابلے میں اس کی سائیڈ ویژن (اطراف کا منظر) محدود ہوتی ہے۔ 🦎 چھپکلی / گیکو (Gecko) یہ انتہائی مدھم روشنی میں بھی دیکھ سکتی ہے اور تقریباً اندھیرے میں بھی رنگوں کو پہچان لیتی ہے۔ لیکن: تیز روشنی میں اس کی بصارت بہت جلد چندھیا جاتی ہے۔ 🐐 بکری (Goat) بکری کی مستطیل نما پتلیاں اسے 320 ڈگری تک کا وسیع منظر (Panoramic view) دکھاتی ہیں تاکہ وہ دشمن کو دور سے دیکھ سکے۔ لیکن: اس کے بدلے اسے عمودی گہرائی (Vertical depth) کا درست اندازہ نہیں ہو پاتا۔ 🐙 آکٹوپس (Octopus) سمندر کی گہرائیوں میں اشکال اور تضاد (Contrast) کو پہچاننے میں یہ ماہر ہے۔ لیکن: آکٹوپس زیادہ تر رنگوں سے عاری (Color-blind) ہوتے ہیں—وہ دنیا کو ویسے نہیں دیکھتے جیسے ہم دیکھتے ہیں۔ 👉 نتیجہ: ارتقاء کا مقصد 'کمال' حاصل کرنا نہیں... بلکہ 'بقا' کو یقینی بنانا ہے۔ قدرت ہر جاندار کو وہی کچھ دیتی ہے جو اسے اپنے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہو۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک علمی لطیفہ

ایک علمی لطیفہ

ایک شیعہ عالمہ مجھ سے کہنے لگی ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے میں نے کہا کیسے؟ کہا: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ [۸۳] سورۃ الصافات ترجمہ: اور بے شک ابراہیمؑ اس کے شیعہ میں سے ہیں میں نے کہا آپ بھی مان جائیں گی، اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [۱۰] وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ [۱۱] سورۃ الحجر ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے جتنے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا [۴] سورۃ القصص ترجمہ: بے شک فرعون نے سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا [۳۲] سورۃ الروم ترجمہ: ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود بھی شیعہ ہوگئے إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْ [۱۵۹] سورۃ الانعام ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے وہ شیعہ تھے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا [۶۹] سورۃ مريم ترجمہ: پھر ہر شیعہ سے ایسے ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو رحمن سے سرکشی کرتے رہے یہ سن کر وہ عالمہ ہنستے ہوئے کہنے لگی: میں تو مذاق کر رہی تھی 😅