کوئی بھی آنکھ مکمل نہیں ہے! 👁️ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بہتر دیکھنے کی صلاحیت بھی کسی قیمت پر حاصل ہوتی ہے؟ قدرت نے ہر آنکھ کو کمال (Perfection) کے لیے نہیں بلکہ بقا (Survival) کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کیسے: 👁️ انسان (Human) انسانی آنکھ تیز، فوکسڈ اور رنگوں کی پہچان میں بہترین ہے۔ لیکن: اس میں ایک 'بلائنڈ اسپاٹ' ہوتا ہے اور کئی جانوروں کے مقابلے میں اس کی سائیڈ ویژن (اطراف کا منظر) محدود ہوتی ہے۔ 🦎 چھپکلی / گیکو (Gecko) یہ انتہائی مدھم روشنی میں بھی دیکھ سکتی ہے اور تقریباً اندھیرے میں بھی رنگوں کو پہچان لیتی ہے۔ لیکن: تیز روشنی میں اس کی بصارت بہت جلد چندھیا جاتی ہے۔ 🐐 بکری (Goat) بکری کی مستطیل نما پتلیاں اسے 320 ڈگری تک کا وسیع منظر (Panoramic view) دکھاتی ہیں تاکہ وہ دشمن کو دور سے دیکھ سکے۔ لیکن: اس کے بدلے اسے عمودی گہرائی (Vertical depth) کا درست اندازہ نہیں ہو پاتا۔ 🐙 آکٹوپس (Octopus) سمندر کی گہرائیوں میں اشکال اور تضاد (Contrast) کو پہچاننے میں یہ ماہر ہے۔ لیکن: آکٹوپس زیادہ تر رنگوں سے عاری (Color-blind) ہوتے ہیں—وہ دنیا کو ویسے نہیں دیکھتے جیسے ہم دیکھتے ہیں۔ 👉 نتیجہ: ارتقاء کا مقصد 'کمال' حاصل کرنا نہیں... بلکہ 'بقا' کو یقینی بنانا ہے۔ قدرت ہر جاندار کو وہی کچھ دیتی ہے جو اسے اپنے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہو۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک معمولی واقعہ، ایک عظیم سبق

ایک معمولی واقعہ، ایک عظیم سبق

لندن میں ایک امام صاحب تھے۔ روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہوکر دور مسجد تک جانا اُنکا معمول تھا۔ لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کے بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ 1مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر1 نشست پر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں ہے ۔ پھر ایک سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے ، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے ، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔ اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔ ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آکر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔ امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔ یاد رکھئیے بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔ یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔ کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے. اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں. ہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دور سے نظرآجاتا ہے... _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔