*مسکرائیں😆* اکبر بادشاہ کے زمانے میں تین دوست تھے جن کی شادی نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے اکبر بادشاہ کے سامنے درخواست پیش کی کہ ان کی شادی کروا دی جائے۔ بادشاہ نے تینوں کو بلوایا اور کہا میں تمہاری شادی کروا دیتا ہوں، لیکن ایک شرط ہوگی۔ تم لوگوں کو ایک آزمائش سے گزرنا پڑے گا۔ جو کامیاب ہو گیا اس کی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کروا دی جائے گی، اور جو ناکام ہوا اس کی شادی کسی بدصورت لڑکی سے ہوگی۔ انہوں نے شرط منظور کر لی انہیں ایک تاریک کمرے میں اکٹھا رکھا گیا، جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اور بتایا گیا کہ یہاں ایک ماہ تک رہنا ہے۔ یہیں کھانا پینا، سونا جاگنا ہوگا۔ کمرے میں جگہ جگہ پاپڑ رکھے گئے ہیں، ان سے بچنا ہے کہ پاؤں کے نیچے نہ آ جائیں۔ جس کا پاؤں پاپڑ پر آ گیا، اس کی شادی بدصورت لڑکی سے کر دی جائے گی۔ اب تینوں دوست اس آزمائش سے صحیح سلامت گزرنے کے لیے مکمل احتیاط سے رہنے لگے۔ نو دن خیریت سے گزر گئے۔ دسویں دن ایک دوست کا پاؤں پاپڑ پر آ گیا۔ فوراً سپاہی اسے کمرے سے نکال کر لے گئے اور اس کی شادی بدصورت لڑکی سے کر دی گئی۔ اب دو دوست خوش ہوئے کہ اب جگہ خالی ہو گئی ہے۔ بیسویں دن ایک اور دوست کا پاؤں پاپڑ پر آ گیا، اور سپاہی اسے بھی روتا دھوتا لے گئے۔ اب تیسرا اکیلا رہ گیا۔ اس نے باقی دن خیریت سے گزار لیے۔ آزمائش پوری ہونے پر اس کی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کر دی گئی، اور وہ خوشی خوشی رہنے لگا۔ ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا تمہیں پتہ ہے، میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے کتنی تکلیف دہ آزمائش سے گزرا ہوں؟ اور اس کے بعد مکمل تفصیل سمجھائی۔ پھر پوچھا اچھا تم بتاؤ، تم نے مجھے حاصل کرنے کے لیے کیا کیا؟ بیوی نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ہم بھی تین سہیلیاں ایک کمرے میں بند تھیں… پھر ایک دن میرا پاؤں پاپڑ پر آ گیا!۔😄

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

ایک دیہاتی حضرت حسینؓ بن علیؓ کے پاس گیا ، ان کو سلام کیا اور ان سے حاجت کا سوال کیا ، اور اس نے کہا میں نے آپ کے نانا سے سنا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی سے حاجت کا سوال کرو تو وہ چار (صفات والے آدمیوں) میں سے ایک سے مانگو نمبر ۱ : یا تو وہ شریف عربی ہو نمبر ۲ : یا سخی مددگار ہو نمبر ۳ : یا حامل قرآن ہو نمبر ۴ : یا خوبصورت چہرے والا ہو بہر حال عرب ہونا ، تو وہ آپ کو آپ کے نانا سے شرف حاصل ہے اور سخاوت ، تو وہ آپ سے اور آپ کی سیرت سے شروع ہوئی ہے اور قرآن ، تو وہ آپ کے گھروں میں نازل ہوا ہے ۔ اور خوبصورت چہرہ ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم مجھے دیکھنے کا ارادہ کرو ، تو حسن اور حسین کی طرف دیکھو ۔ (یعنی بقول حضور کے آپ میں یہ چاروں صفات پائی جاتی ہیں ۔ ) حضرت حسینؓ نے فرمایا ، تیری کیا حاجت ہے ؟ تو اس نے وہ حاجت زمین پر لکھ دی ۔ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہر آدمی کی قیمت اتنی ہے جتنا وہ احسان کرے ، اور میں نے اپنے نانا سے سنا ، انہوں نے فرمایا نیکی معرفت کے بقدر ہوتی ہے ۔ لہٰذا میں تجھ سے تین مسائل پوچھوں گا ، اگر تو نے ایک کا جواب اچھا دیا تو جو کچھ میرے پاس ہے اس کا ایک ثلث تیرا ہو گا اور اگر تو نے دو کا جواب دیا تو تیرے لئے میرے پاس موجود کا دو ثلث ہو گا ، اور اگر تو نے تینوں کا جواب دیا تو میرے پاس موجود سب تیرا ہو گا ، اور حال یہ ہے کہ میری طرف عراق سے ایک مہر زدہ تھیلی (ہدیہ) بھجوائی گئی ہے۔ اس دیہاتی نے کہا کہ پوچھیے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ نمبر ۱ : حضرت حسین نے پوچھا ، اعمال میں سے افضل کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر ایمان لانا ۔ نمبر ۲ : حضرت حسین نے پوچھا ، بندہ کی ہلاکت سے نجات کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر بھروسہ کرنا ۔ نمبر ۳ : حضرت حسین نے پوچھا ، کونسی چیز آدمی کو زینت بخشتی ہے ؟ دیہاتی نے کہا ، علم جس کے ساتھ بردباری ہو ۔ نمبر ۴ : حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ اس سے خطأً چلی جائے تو؟ اعرابی نے کہا پھر مال ( سے تلافی ہو سکتی ہے ) جس کے ساتھ سخاوت ہو۔ حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ دیہاتی نے کہا ، پھر فقر ہے جس کے ساتھ صبر ہو ۔ حضرت حسین نے پوچھا اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ اعرابی نے کہا ، پھر تو آسمان سے اتاری جانے والی بجلی ہی ہے جو اس کو جلا کر رکھ دے گی ۔ (یعنی پھر اس کے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ ) حضرت حسین اس کے صحیح جوابات پر ہنسنے لگے اور وہ تھیلی اس کی طرف پھینک دی ۔ ترجمہ : محمد فیاض خان سواتی التفسیر الکبیر عربی ج ۲ ص ۱۹۸ طبع مصر ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ