ٹکٹ: فری.....سیٹ:یقینی.....نام عبداللہ ابن آدم ..... عرفیت:انسان.....قومیت:مسلمان..... شناخت:مٹی،پتہ:روئے زمین.....دوران سفر: چند ثانیے.....جس میں چند لمحات کے لئے دو میٹر زیر زمین قیام.....ضروری ہدایات:تمام مُسافرین سے درخواست ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھیں،جو ان سے پہلے آخرت کی طرف سفر کرگئے ہیں.....اسی طرح ہر لمحہ ان کی نظر طیارے کے پائلٹ ملک الموت کی طرف رہنی چاہئے.....مزید تفصیلات کیلئے ان ضروری ہدایات کو بغور پڑھ لیں،جو کتاب(قرآن) اور سنت رسول(ﷺ) میں درج ہیں.....اگر اس سلسلے میں کچھ سوالات درپیش ہوں تو جواب کے لئے علماء امت سے رجوع کریں.....ہر مُسافر اپنے ساتھ چند میٹر سفید لٹھا اور تھوڑی سی روئی لے جاسکتا ہے،لیکن وہ سامان جو میزان میں پورا اترے گا وہ نیک اعمال،صدقئہ جاریہ،صالح اولاد اور وہ علم ہوگا جس سے بعد والے نفع حاصل کرسکیں گے.....اس سے زیادہ سامان سفر لانے کی کوشش کی گئی تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے..... تمام مُسافروں سے درخواست ہے کہ وہ پرواز کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں.....پرواز کے متعلق مزید معلومات کے لئے فوری طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول (ﷺ) سے رابطہ قائم کیا جائے..... اس سلسلے میں روزانہ پانچ وقتہ مسجد کی حاضری نہایت ضروری اور مفید ہوگی..... آپ کی سہولت کے لئے عرض ہے کہ آپ کی سیٹ ریزرو ہوچکی ہے اور اس سلسلے میں کسی ری کنفرمیشن کی حاجت نہیں ہے.....امید ہے کہ آپ سفر کے لئے تیار ہوں گے..... ہم آپ کو اس مبارک سفر پر خوش آمدید کہتے ہیں.....ہماری نیک دعائیں آپ کے ساتھ ہیں( بکھرے موتی)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چشمِ خطا پوش :

چشمِ خطا پوش  :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خود وہاں آ پہنچا، خزانچی نے اس شخص کا تذکرہ اس کے سامنے کیا اور خط بھی دکھایا، فضل بن ربیعؒ نے خط دیکھنے کے بعد ایک نظر اس شخص کے چہرے پر ڈالی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا، فضل بن ربیعؒ سر جھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا " تمہیں معلوم ہے میں اس وقت تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟" خزانچی نے نفی میں گردن ہلادی، فضل بن ربیعؒ نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراً ادا کر کے اس کی ضرورت پوری کرو" خزانچی نے فوراً ہزار دینار تھیلی میں ڈال کر اس شخص کے سپرد کردیئے، وہ شخص ہکا بکا رہ گیا، گھبراہٹ کے عالم میں کبھی وہ فضل بن ربیعؒ کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی خزانچی کے، فضل بن ربیعؒ قریب ہوکر اس سے مخاطب ہوا "گھبراؤ نہیں اور راضی خوشی گھر کا رخ کرو " اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیعؒ کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا، "آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا، روز قیامت اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے" یہ کہہ کر اس نے دینار لئے اور نکل آیا ـ ( المستطرف ص:۲۰۶) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں (صفحہ نمبر ۹۴ ) مصنف : ابن الحسن عباسی ؒ